تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 389 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 389

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۹ سورة الفاتحة کے لگائے گئے ہیں اور پانی جو زور سے بہہ رہا ہے وہ تو ان شیشوں کے نیچے ہے نہ کہ یہ خود پانی ہیں تب وہ سمجھ گئی کہ میری مذہبی غلطی پر مجھے ہوشیار کیا گیا ہے اور میں نے فی الحقیقت جہالت کی راہ اختیار کر رکھی تھی جو سورج کی پوجا کرتی تھی۔تب وہ خدائے واحد لاشریک پر ایمان لائی اور اُس کی آنکھیں کھل گئیں اور اُس نے یقین کر لیا کہ وہ طاقت عظمیٰ جس کی پرستش کرنی چاہئے وہ تو اور ہے اور میں دھو کہ میں رہی اور سطحی چیز کو معبود ٹھہرایا اور اس نبی کی تقریر کا ماحصل یہ تھا کہ دنیا ایک شیش محل ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور عناصر وغیرہ جو کچھ کام کر رہے ہیں۔یہ دراصل ان کے کام نہیں یہ تو بطور شیشوں کے ہیں بلکہ ان کے نیچے ایک طاقت مخفی ہے جو خدا ہے۔یہ سب اس کے کام ہیں۔اس نظارہ کو دیکھ کر بلقیس نے سچے دل سے سورج کی پوجا سے توبہ کی اور سمجھ لیا کہ وہ طاقت ہی اور ہے کہ سورج وغیرہ سے کام کراتی ہے اور یہ تو صرف شیشے ہیں۔یہ تو ہم نے سورج کا حال بیان کیا ایسا ہی چاند کا حال ہے۔جن صفات کو چاند کی طرف منسوب کیا جاتا ہے وہ دراصل خدا تعالیٰ کی صفات ہیں۔وہ راتیں جو خوفناک تاریکی پیدا کرتی ہیں چاند ان کو روشن کرنے والا ہے جب وہ چمکتا ہے تو فی الفور اندھیری رات کی تاریکی اُٹھ جاتی ہے۔کبھی وہ پہلے وقت سے ہی چھپکنا شروع کرتا ہے اور کبھی کچھ تاریکی کے بعد نکلتا ہے۔یہ عجیب نظارہ ہوتا ہے کہ ایک طرف چاند چڑھا اور ایک طرف تاریکی کا نام و نشان نہ رہا۔اسی طرح خدا بھی جب نہایت گندہ اور تار یک آدمیوں پر جو اس کی طرف جھکتے ہیں چمکتا ہے تو ان کو اسی طرح روشن کر دیتا ہے جیسا کہ چاند رات کو روشن کرتا ہے۔اور کوئی انسان اپنی عمر کے پہلے زمانہ میں ہی اس چاند کی روشنی سے حصہ لیتا ہے اور کوئی نصف عمر میں اور کوئی آخری حصہ میں اور بعض بد بخت سلخ کی راتوں کی طرح ہوتے ہیں یعنی تمام عمران پر اندھیرا ہی چھائے رہتا ہے۔اس حقیقی چاند سے حصہ لینا ان کو نصیب نہیں ہوتا۔غرض کہ یہ سلسلہ چاند کی روشنی کا اس حقیقی چاند کی روشنی سے بہت مناسبت رکھتا ہے۔ایسا ہی چاند پھلوں کو موٹا کرتا اور اُن میں طراوت ڈالتا ہے اسی طرح وہ لوگ جو عبادت کر ؟ کے اپنے درخت وجود میں پھل تیار کرتے ہیں چاند کی طرح خدا کی رحمت ان کے شامل حال ہو جاتی ہے اور اس پھل کو موٹا اور تازہ بتازہ کر دیتی ہے اور یہی معنے رحیم کے لفظ میں مخفی ہیں جو سورۃ فاتحہ میں خدا کی دوسری صفت بیان کی گئی ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ جسمانی طور پر چار قسم کی ربوبیت ایسی ہو رہی ہے جس سے نظامِ عالم وابستہ ہے۔ایک آسمانی ربوبیت یعنی اکاش سے ہے جو جسمانی تربیت کا سرچشمہ ہے جس سے پانی برستا ہے اگر وہ پانی کچھ مدت نہ برسے تو جیسا کہ علم طبیعی میں ثابت کیا گیا ہے۔کنوؤں کے پانی بھی خشک ہو