تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 380
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۰ سورة الفاتحة وَمِنْهُمْ قَوْمَ أَكْمَلُوا أَمْرَ الضَّلَالَةِ، وَارْتَدُّوا پکے گمراہ ہو گئے اور جہالت سے اسلام کے ساتھ دشمنی مِنَ الْإِسْلَامِ وَعَادَوْهُ مِنَ الْجَهَالَةِ، وَكَتَبُوا کرتے ہیں اور اسلام کے رڈ میں کتابیں لکھیں اور خدا كُتُبا فِي رَدّهِ، وَشَتَمُوا رَسُولَ اللهِ وَصَالُوا کے رسول کو بُرا کہا اور اس کی عزت پر حملہ کیا اور اس قسم عَلى عِرْضِهِ، وَتِلْكَ أَزْوَاجٌ فِي هَذَا الْمُلْكِ کے لوگ اس ملک میں کثرت سے ہیں اور وہ اس سے بَعْدَمَا كَانُوا يُسْلِمُون فَتَمَّ مَا أُشير إلَيْهِ پہلے مسلمان تھے۔پس جس بات کا سورۃ فاتحہ میں اشارہ فِي الْفَاتِحَةِ، فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ تھا وہ ظاہر ہو گئی - إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ۔( ترجمہ اصل کتاب سے ) خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۱۶۶ تا ۱۷۳) سعید فرقہ جو کہ عذاب سے نجات پانے والا ہے وہ اَنْعَمتَ عَلَيْهِمْ ہے۔اور جو عذاب میں مبتلا ہونے والا ہے وہ مغضوب علیھم ہے۔مغضوب علیہم اور ضالین میں وہی فرق ہے جو کہ ایک مریض محرقہ اور مدقوق میں ہوتا ہے کہ ایک جلدی ہلاک ہوتا ہے اور ایک آہستہ آہستہ ہلاکت تک پہنچتا ہے۔مگر انجام کار دونوں ہلاک ہوتے ہیں کوئی آگے کوئی پیچھے۔(البدر جلد نمبر امورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۶) بہترین دعا وہ ہوتی ہے جو جامع ہو تمام خیروں کی اور مانع ہو تمام مضرات کی اس لئے اَنْعَمتَ عَلَيْهِمْ کی دعا میں آدم سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کل منعم علیہم لوگوں کے انعامات کی حصول کی دعا ہے۔اور غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالین میں ہر قسم کی مضرتوں سے بچنے کی دعا ہے۔چونکہ مغضوب سے مراد یہود اور ضالین سے مراد نصاری بالا تفاق ہے تو اس دعا کی تعلیم کا منشاء صاف ہے کہ یہودیوں نے جیسے بے جا عداوت کی تھی۔مسیح موعود کے زمانہ میں مولوی لوگ بھی ویسا ہی کریں گے اور حدیثیں اس کی تائید کرتی ہیں۔یہاں تک کہ وہ یہودیوں کے قدم بقدم چلیں گے۔الحکم جلدے نمبر ۲۰ مؤرخہ ۳۱ رمئی ۱۹۰۳ صفحه ۳) خدا تعالیٰ سے مانگنے کے واسطے ادب کا ہونا ضروری ہے اور عقلمند جب کوئی شے بادشاہ سے طلب کرتے ہیں ہمیشہ آداب کو مد نظر رکھتے ہیں اسی لئے سورہ فاتحہ میں خدا تعالیٰ نے سکھایا ہے کہ کس طرح مانگا جاوے اور اس میں دکھایا ہے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ یعنی سب تعریف خدا کو ہی ہے جو رب ہے سارے جہان کا۔التخمین یعنی بلا مانگے اور سوال کئے کے دینے والا اور الرحیم یعنی انسان کی سچی محنت پر ثمرات حسنہ مرتب کرنے والا ہے۔مُلِكِ يَوْمِ التانين جزا سزا اُسی کے ہاتھ میں ہے چاہے رکھے چاہے مارے اور جزا و سزا آخر کی بھی ہے اور اس دنیا کی بھی اُسی کے ہاتھ میں ہے۔جب اس قدر تعریف انسان کرتا ہے تو