تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 377
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۷ سورة الفاتحة بچشم خود مشاہدہ کر چکے ہو کہ کس قدر مسلمان یہودی صفت اور کس قدر عیسائیوں کے لباس میں ہیں۔تو اب تیسری پیشگوئی خود ماننے کے لائق ہے کہ جیسا کہ مسلمانوں نے یہودی عیسائی بننے سے یہود نصاری کی بدی کا حصہ لیا ایسا ہی اُن کا حق تھا کہ بعض افراد ان کے اُن مقدس لوگوں کے مرتبہ اور مقام سے بھی حصہ لیں جو بنی اسرائیل میں گزر چکے ہیں یہ خدائے تعالیٰ پر بدظنی ہے کہ اُس نے مسلمانوں کو یہود و نصاری کی بدی کا تو حصہ دار ٹھہرا دیا ہے یہاں تک کہ اُن کا نام یہود بھی رکھ دیا مگر اُن کے رسولوں اور نبیوں کے مراتب میں سے اس اُمت کو کوئی حصہ نہ دیا پھر یہ اُمت خیر الامم کس وجہ سے ہوئی؟ بلکہ شر الامم ہوئی کہ ہر ایک نمونہ شر کا ان کو ملا مگر نیکی کا نمونہ نہ ملا۔کیا ضرور نہیں کہ اس اُمت میں بھی کوئی نبیوں اور رسولوں کے رنگ میں نظر آ وے جو بنی اسرائیل کے تمام نبیوں کا وارث اور اُن کا ظل ہو؟ کیونکہ خدا تعالیٰ کی رحمت سے بعید ہے کہ وہ اس اُمت میں اس زمانہ میں ہزار ہا یہودی صفت لوگ تو پیدا کرے اور ہزار ہا عیسائی مذہب میں داخل کرے مگر ایک شخص بھی ایسا ظاہر نہ کرے جو انبیائے گزشتہ کا وارث اور ان کی نعمت پانے والا ہوتا پیشگوئی جو آیت اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ سے مستنبط ہوتی ہے وہ بھی ایسی ہی پوری ہو جائے جیسا کہ یہودی اور عیسائی ہونے کی پیشگوئی پوری ہو گئی اور جس حالت میں اس اُمت کو ہزار ہائبرے نام دئے گئے ہیں اور قرآن شریف اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ یہود ہو جانا بھی ان کے نصیب میں ہے تو اس صورت میں خدا کے فضل کا خود یہ مقتضا ہونا چاہئے تھا کہ جیسے گزشتہ نصاری سے انہوں نے بُری چیزیں لیں اسی طرح وہ نیک چیز کے بھی وارث ہوں اسی لئے خدا تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں آیت اهْدِنَا الصِّرَاط الْمُسْتَقِيمَ میں بشارت دی کہ اس اُمت کے بعض افراد انبیائے گزشتہ کی نعمت بھی پائیں گے نہ یہ کہ نرے یہود ہی بنیں یا عیسائی بنیں اور ان قوموں کی بدی تو لے لیں مگر نیکی نہ لے سکیں۔کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۸۲۴۵) وَمَا قَصَّ اللهُ عَلَيْنَا الْفِرَقَ الثَّلَاثَ في اور خدا نے فاتحہ میں تین فرقوں کا اس لئے ذکر کیا الْفَاتِحَةِ إِلَّا لِيُشِيْرَ إِلى أَنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ وَرِثَهُمْ ہے کہ تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ یہ امت مذکورہ فِي كُلِّ قِسْمٍ مِنَ الْأَقْسَامِ الْمَذْكُورَةِ، فَقَدْ قسموں میں سے ہر ایک قسم کی وارث ہوگی۔پس بلاشبہ ظَهَرَتْ هَذِهِ الْوَرَاثَةُ فِي مُسْلِمِی زَمَانِنَا الَّذِی یہ وراثت ہمارے زمانہ میں جو آخری زمانہ ہے ایسی هُوَ أَخِرُ الزَّمَانِ بِظُهُورٍ تَامَ، تَعْرِفُهَا كُلُّ نَفْسٍ ظہور تام سے مسلمانوں میں ظاہر ہوگئی ہے کہ ہر یک