تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 373
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۳ سورة الفاتحة مغضوب سے یہ مخصوصا مراد نہیں کہ قیامت میں ہی غضب ہوگا کیونکہ جو کتاب اللہ کو چھوڑتا اور احکام الہی کی خلاف ورزی کرتا ہے ان سب پر غضب ہوگا۔مغضوب سے مراد بالا تفاق یہود ہیں اور الضالین سے نصاریٰ اب اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ منعم علیہ فرقہ میں داخل ہونے اور باقی دو سے بچنے کے لئے دعا ہے۔اور یہ سنت اللہ ٹھہری ہوئی ہے جب سے نبوت کی بنیاد ڈالی گئی ہے خدا تعالیٰ نے یہ قانون مقرر کر رکھا ہے کہ جب وہ کسی قوم کو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا حکم دیتا ہے تو بعض اس کی تعمیل کرنے والے اور بعض خلاف ورزی کرنے والے ضرور ہوتے ہیں پس بعض منعم علیہ بعض مغضوب اور بعض ضالین ضرور ہوں گے۔اب زمانہ بآواز بلند کہتا ہے کہ اس سورہ شریف کے موافق ترتیب آخر سے شروع ہو گئی ہے۔آخری فرقہ نصاری کا رکھا ہے اب دیکھو کہ اس میں کس قدر لوگ داخل ہو گئے ہیں۔ایک بشپ نے اپنی تقریر میں ذکر کیا ہے کہ ۲۰۰۰۰۰۰ مسلمان مرتد ہو چکے ہیں اور یہ قوم جس زور شور کے ساتھ نکلی ہے اور جو جوطریق اس نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے اختیار کئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی عظیم الشان فتنہ نہیں ہے۔اب دیکھو کہ تین باتوں میں سے ایک تو ظاہر ہو گئی پھر دوسری قوم مغضوب ہے مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا وقت بھی آ گیا اور وہ بھی پورا ہورہا ہے یہودیوں پر غضب الہی اس دنیا میں بھی بھر کا اور طاعون نے اُن کو تباہ کیا۔اب اپنی بدکاریوں اور فسق و فجور کی وجہ سے طاعون بکثرت پھیل رہی ہے۔کتمان حق سے وہ لوگ جو عالم کہلاتے ہیں نہیں ڈرتے۔اب ان دونوں کے پورا ہونے سے تیسرے کا پتہ صاف ملتا ہے انسان کا قاعدہ ہے کہ جب چار میں سے تین معلوم ہوں تو چوتھی شے معلوم کر لیتا ہے اور اُس پر اُس کو اُمید ہو جاتی ہے نصاری میں لاکھوں داخل ہو گئے۔مغضوب میں داخل ہوتے جاتے ہیں منعم علیہ کا نمونہ بھی اب خدا دکھانا چاہتا ہے جب کہ سورہ فاتحہ میں دعا تھی اور سورہ نور میں وعدہ کیا گیا ہے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ سورہ نور میں دعا قبول ہو گئی ہے۔غرض اب تیسر ا حصہ منعم علیہ کا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس کو روشن طور پر ظاہر کر دے گا۔اور یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے جو ہو کر رہے گا مگر اللہ تعالیٰ انسان کو ثواب میں داخل کرنا چاہتا ہے تا کہ وہ استحقاق جنت کا ثابت کر لیں جیسا پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا۔خدا تعالیٰ اس بات پر قادر تھا کہ وہ صحابہ کے بدوں ہی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کی فتوحات عطا فرماتا۔مگر نہیں خدا نے صحابہ کو شامل کر لیا تا کہ وہ مقبول ٹھہریں اس سنت کے موافق یہ بات ہماری جماعت کو پیش آگئی ہے کہ بار بار تکلیف دی جاتی ہے اور چندے مانگے جاتے ہیں۔(الحکم جلد ۵ نمبر ۱۴ مؤرخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۱ صفحه ۷،۶)