تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 370 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 370

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة سے پناہ مانگنی ضروری تھی یعنی سورۃ فاتحہ میں بجائے وَلَا الضَّالِّينَ کے ولا الدجال ہونا چاہیے تھا اور یہی معنی واقعات نے ظاہر کئے ہیں کیونکہ جس آخری فتنہ سے ڈرایا گیا تھا زمانہ نے اس فتنہ کو پیش کیا ہے جو تثلیث پر غلو کرنے کا فتنہ ہے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۲۳ حاشیه ) ان لوگوں نے مسیح کو نصف خدائی کا دعویدار بنا دیا ہے ایسا ہی انہوں نے دجال کی نسبت مان رکھا ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرے گا اور یہ کرے گا اور وہ کرے گا افسوس قرآن تو لا إِلهَ إِلَّا اللہ کی تلوار سے تمام اُن باطل معبودوں کو قتل کرتا ہے جن میں خدائی صفات مانی جائیں پھر یہ دجال کہاں سے نکل آیا ہے۔سورۃ فاتحہ میں یہودی اور عیسائی بننے سے بچنے کی دعا تو سکھلائی کیا دجال کا ذکر خدا کو یاد نہ رہا جو اتنابڑافتنہ تھا ؟ الحکم جلد ۵ نمبر ۳ مؤرخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۱ ء صفحه ۵) یہ جو میں نے ضالین کہا ہے تو اس سے مراد عیسائی اور پادری ہیں۔انگریز اس سے مراد نہیں کیونکہ انگریز تو اکثر ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے ساری عمر میں ایک دفعہ بھی انجیل پڑھی ہوئی نہیں ہوتی۔ان پادریوں پر اسلام ایک بڑا بھاری صدمہ ہے کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس کو وہ مغلوب نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔یہ جو میں نے ضالین کا ذکر کیا ہے تو اس سے مراد یہی پادری لوگ ہیں جو نہ صرف خود گمراہ ہیں بلکہ اوروں کو گمراہ کرنے میں بھی پوری ہمت اور کوشش سے کام لیتے ہیں۔اور یہ جو حدیثوں میں دقبال کا ذکر آیا ہے تو اس سے مراد ضالین ہی ہیں اور اگر دجال کے معنے ضالین کے نہ لئے جاویں تو ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ نے ضالین کا ذکر تو قرآن شریف میں کر دیا بلکہ ان کے فتنہ تنظیم سے بچنے کے لئے دعا بھی سکھا دی مگر دجال کا ذکر تک بھی نہ کیا۔حالانکہ وہ ایک ایسا عظیم فتنہ تھا جس سے لکھو کھا لوگ گمراہ ہو جاتے تھے۔غرض سچی بات یہی ہے کہ دقبال اور ضالین ایک ہی گروہ کا نام ہے۔جولوگوں کو گمراہ کرتے پھرتے ہیں اور اس آخری زمانہ میں اپنے پورے زور پر ہیں اور ہر ایک طرح کے مکر اور فریب سے خلقت کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے پھرتے ہیں۔اور چونکہ دجال کے معنے بھی گمراہ کرنے والے کے ہیں۔اسی واسطے احادیث میں یہ لفظ ضاتین کی بجائے بولا گیا ہے اور احادیث میں ضالین کی بجائے دجال کا لفظ آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔کہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ لوگ اپنی طرف سے ایک دقبال بنالیں گے اور عجیب عجیب قسم کے خیالات اس کی طرف منسوب کریں گے کہ اس کے ایک ہاتھ میں بہشت ہوگا اور ایک ہاتھ میں دوزخ اور وہ خدائی کا بھی