تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 359
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۹ سورة الفاتحة إِلَى الْمَيْنِ وَمَا بَقِيَ إِلَّا قِيْدُ رُفْحَيْنِ طرف ایسے مائل ہو گئے حتی کہ دو نیزہ بھر فرق بھی باقی نہ وَعَدِمُوا الْحَقِّ بَعْدَ مَا كَانُوا عَارِفِينَ رہا۔اُنہوں نے حق کو جاننے کے باوجود اسے معدوم قرار وَأَمَّا الضَّالُونَ الَّذِينَ أُشِيْرَ إِلَيْهِمُ في دیدیا۔لیکن وہ گمراہ لوگ جن کی طرف اللہ کے کلام قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ الضَّالِّينَ فَهُمُ الَّذِيْنَ الضّالین میں اشارہ ہے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اندھیری وَجَدُوا طَرِيقًا طَامِسا في لَيْلٍ دَامِیں رات میں لئے ہوئے راستہ کو پا تو لیا تھا لیکن وہ اس راستہ فَزَاغُوا عَنِ الْمَحَجَّةِ قَبْلَ ظُهُورِ الْحُجَّةِ کے خلاف کسی پختہ دلیل کے ظہور سے قبل ہی اس راستہ سے وَقَامُوا عَلَى الْبَاطِلِ غَافِلِينَ وَمَا كَانَ بھٹک گئے اور غافل ( ہو کر ) باطل پر قائم ہو گئے۔انہیں ایسا مِصْبَاحُ يُؤْمِنُهُمُ الْعِقَارَ أَوْ يُبَيِّنُ لَهُمُ کوئی چراغ ( ہدایت ) نہ ملا جو انہیں لغزش سے محفوظ رکھتا الْأَثَارَ فَسَقَطُوا فِي هُوَةِ الضَّلَالِ غَيْرَ اور انہیں راہِ حق کے آثار دکھاتا۔پس وہ نادانستہ گمراہی کے مُتَعَتِدِينَ وَلَوْ كَانُوا مِن الدَّاعِيْنَ گڑھے میں جا پڑے۔اگر وہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ بِدُعَاءِ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ تحفظهُمْ کی دعا کرنے والے ہوتے تو اُن کا پروردگار انہیں ضرور رَبُّهُم وَلأَرَاهُمُ الذِيْنَ الْقَوِيْمَ محفوظ رکھتا اور انہیں سچا دین دکھاتا اور انہیں ضلالت کے وَلَنَجَّاهُمْ مِنْ سُبُلِ الضَّلَالَةِ وَلَهَدَاهُمُ رستوں سے نجات دیتا اور اُن کی حق و حکمت اور عدل کے إلى طرق الحققِ وَ الْحِكْمَةِ وَالْعَدَالَة راستوں کی طرف راہنمائی کرتا تا وہ ( صحیح ) راستہ پالیتے لِيَجِدُوا الصِّرَاطَ غَيْرَ مَلُومِينَ وَلكِنَّهُمْ اِس طرح اُن پر کوئی ملامت نہ ہوتی۔لیکن انہوں نے بادَرُوا إِلَى الْأَهْوَاءِ وَمَا دَعَوْا رَبَّهُمْ نفسانی خواہشات کی طرف جلد قدم بڑھایا اور ہدایت کے لئے لِلْاهْتِدَاءِ وَمَا كَانُوا خَائِفِينَ بَل لووُا اپنے پروردگار سے دعا نہ کی اور نہ ہی خدا تعالیٰ سے خائف رُؤُوسَهُمْ مُسْتَكْبِرِينَ وَ سَرت مُحميّا ہوئے بلکہ انہوں نے تکبر کرتے ہوئے اپنے سر پھیر لئے اور الْعُجْبِ فِيهِمُ فَرَفَضُوا الْحَقِّ لِهَفَوَاتِ خود بینی کا جوش اُن میں سرایت کر گیا۔پس اُنہوں نے ان خَرَجَتْ مِنْ فِيهِم وَ لَفَظَتُهُمْ فضول باتوں کی وجہ سے جو اُن کے منہ سے نکلیں حق کو چھوڑ تَعَصُّبَاتُهُمْ إِلَى بَوَادِي الْهَالِكِينَ دیا اور ان کے تعصبات نے ان کو ہلاک ہونے والے کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد ے صفحہ ۱۳۶،۱۳۵) لوگوں کے جنگلوں میں پھینک دیا۔( ترجمہ از مرتب ) غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِینَ۔مغضوب علیہم سے وہ لوگ مراد ہیں جو خدائے تعالیٰ کے مقابل پر