تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 357
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۷ سورة الفاتحة وَلَا تَهِنُوا مِنْ طَلَبِ الْهِدَايَةِ | عیسائیوں کی طرح سستی نہ کرو ورنہ تم بھی گمراہوں میں شامل كَالنَّصَارَى فَتَكُونُوا مِنَ الضَّالِّينَ ہو جاؤ گے۔(ترجمہ از مرتب ) کرامات الصادقین ، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۱۲۳، ۱۲۴) و جمله غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کے جملہ میں محسنِ ادب کی رعایت مُجملةُ إشَارَةٌ إِلى رِعَايَةِ حُسْنِ الآداب رکھنے اور خدائے پروردگار کے ساتھ ادب کا طریق اختیار وَالتَأْذُبِ مَعَ رَبّ الْأَرْبَابِ فَإِنَّ کرنے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ دعا کرنے کے بھی کچھ آداب لِلدُّعَاءِ ادَابًا وَلَا يَعْرِفُهَا إِلَّا مَنْ كَانَ ہیں اور انہیں وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو ( اللہ تعالیٰ کی طرف) تَوَّابًا وَمَن لَّا يُبالي الأداب جھکنے والا ہو۔جو شخص ان آداب کی پروا نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اُس فَيَغْضِبُ اللهُ عَلَيْهِ إِذَا أَصَر عَلَى سے ناراض ہو جاتا ہے۔جب وہ (اپنی) غفلت پر اصرار کرتا الْغَفْلَةِ وَمَا تَابَ فَلَا يرى مِن دُعَائِهِ ہے اور توبہ نہیں کرتا تو اُسے اپنی دعا سے ( اپنی بداعمالیوں کی ) إِلَّا الْعُقُوبَةَ وَالْعَذَابَ فَلِأُجْلِ ذلِك سزا اور عذاب کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔اس لئے دعا میں قَلَ الْفَائِزُونَ فِى الدُّعَاءِ وَکُنر کامیابی حاصل کرنے والے لوگ بہت کم ہوتے ہیں اور تکبر ، وَكَثُرَ الْهَالِكُونَ لِحُجُبِ الْعُجْبِ وَ الْغَفْلَةِ غفلت اور ریاء کے پردوں کی وجہ سے ہلاک ہونے والے وَالرِّيَاءِ ، وَ إِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ اکثر لوگ جب دعا کرتے ہیں تو ساتھ يَدْعُونَ إِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُونَ وَإلى غیر ہی شرک کے مرتکب ہوتے ہیں اور غیر اللہ کی طرف متوجہ الله مُتَوَجهُونَ بَلْ إلى زَيْدٍ وبگر ہوتے ہیں بلکہ زید و بکر کی طرف نگاہ امید رکھتے ہیں۔پس اللہ يَنْظُرُونَ فَاللَّهُ لَا يَقْبَلُ دُعَاءَ تعالیٰ ایسے مشرکوں کی دعاؤں کو قبول نہیں کیا کرتا اور انہیں اپنے الْمُشْرِكِينَ وَ يَتْرُكُهُمْ فى بَيْد ام بیابانوں میں حیران و پریشان چھوڑے رکھتا ہے۔البتہ اللہ تايهين وَ إِنَّ حَبْوَةَ اللهِ قَرِيب فین تعالی کے انعامات منکسر المزاج لوگوں کے بہت قریب ہیں۔الْمُنْكَسِرِينَ وَلَيْسَ الدَّاعِى الذينی (لیکن) و شخص تو دعا کرنے والا نہیں ( کہلا سکتا ) ہے جو ( خدا يَنْظُرُ إِلَى أَطْرَافٍ وَ أَنْحَاءٍ وَيُخْتَلَبُ کے سوا) ادھر اُدھر دیکھتا رہتا ہے۔ہر چمک اور روشنی سے دھوکا بِكُلِ بَرْقٍ وَضِيَا، وَيُرِيدُ أَن يُشرع کھا جاتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ اپنی آستین بھر لے خواہ بھوں كُمَّهُ وَلَوْ يَوَسَائِلِ الْأَصْنَامِ وَيَعْلُو کے وسیلہ سے ہی ہو۔اور بھیک حاصل کرنے کے شوق میں