تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 15
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵ سورة الفاتحة زمانہ پر غالب آ گیا تھا اُس ہر یک قسم کے فساد کے مقابلہ پر پورے پورے زور سے ان سب ظلمتوں کو اٹھانے کے لئے اور روشنی کو پھیلانے کے لئے عین ضروری وقت پر بارانِ رحمت کی طرح ان صداقتوں کو دنیا میں ظاہر کیا گیا اور حقیقت میں وہ بارانِ رحمت ہی تھا کہ سخت پیاسوں کی جان رکھنے کے لئے آسمان سے اترا اور دنیا کی روحانی حیات اسی بات پر موقوف تھی کہ وہ آب حیات نازل ہو اور کوئی قطرہ اس کا ایسا نہ تھا کہ کسی موجود الوقت بیماری کی روانہ ہو اور حالت موجودہ زمانہ نے صد ہا سال تک اپنی معمولی گمراہی پر رہ کر یہ ثابت کر دیا تھا کہ وہ ان بیماریوں کے علاج کو خود بخود بغیر اتر نے اس نور کے حاصل نہیں کر سکتا اور نہ اپنی ظلمت کو آپ اٹھا سکتا ہے ۔ بلکہ ایک آسمانی نور کا محتاج ہے کہ جو اپنی سچائی کی شعاعوں سے دنیا کو روشن کرے اور ان کو دکھاوے جنہوں نے کبھی نہیں دیکھا اور ان کو سمجھاوے جنہوں نے کبھی نہیں سمجھا۔ اس آسمانی نور نے دنیا میں آ کر صرف یہی کام نہیں کیا کہ ایسے معارف حقہ ضرور یہ پیش کئے جن کا صفحہ زمین پر نشان باقی نہیں رہا تھا بلکہ اپنے روحانی خاصہ کے زور سے ان جواہر حق اور حکمت کو بہت سے سینوں میں بھر دیا۔ اور بہت سے دلوں کو اپنے دلر با چہرہ کی طرف کھینچ لایا اور اپنی قومی تاثیر سے بہتوں کو علم اور عمل کے اعلیٰ مقام تک پہنچایا۔ اب یہ دونوں قسم کی خوبیاں کہ جو سورۃ فاتحہ اور تمام قرآن شریف میں پائی جاتی ہیں ۔ کلام الہی کی بے نظیری ثابت کرنے کے لئے ایسے روشن دلائل ہیں کہ جیسی وہ خوبیاں جو گلاب کے پھول میں سب کے نزدیک انسانی طاقتوں سے اعلیٰ تسلیم کی گئی ہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جس قدر یہ خوبیاں بدیہی طور پر عادت سے خارج اور طاقت انسانی سے باہر ہیں ۔ اس شان کی خوبیاں گلاب کے پھول میں ہر گز نہیں پائی جاتیں۔ ان خوبیوں کی عظمت اور شوکت اور بے نظیری اس وقت کھلتی ہے جب انسان سب کو من حیث الاجتماع اپنے خیال میں لاوے اور اس اجتماعی ہیئت پر غور اور تدبر سے نظر ڈالے۔ مثلاً اوّل اس بات کے تصور کرنے سے کہ ایک کلام کی عبارت ایسے اعلیٰ درجہ کی فصیح اور بلیغ اور ملائم اور شیریں اور سلیس اور خوش طرز اور رنگین ہو کہ اگر کوئی انسان کوئی ایسی عبارت اپنی طرف سے بنانا چاہے کہ جو تمام و کمال انہیں معانی پر مشتمل ہو کہ جو اس بلیغ کلام میں پائی جاتی ہیں تو ہرگز ممکن نہ ہو کہ وہ انسانی عبارت اس پا یہ بلاغت و رنگینی کو پہنچ سکے۔ پھر ساتھ ہی یہ دوسرا تصور کرنے سے کہ اس عبارت کا مضمون ایسے حقائق دقائق پر مشتمل ہو کہ جو فی الحقیقت اعلیٰ درجہ کی صداقتیں ہوں اور کوئی فقرہ اور کوئی لفظ اور کوئی حرف ایسا نہ ہو کہ جو حکیمانہ بیان پر مبنی نہ ہو۔ پھر ساتھ ہی یہ تیسر ا تصور کرنے سے کہ وہ صداقتیں ایسی ہوں کہ حالت موجودہ زمانہ کو ان کی نہایت ضرورت ہو۔ پھر ساتھ