تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 14

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴ سورة الفاتحة اس کو وہ کامل مرتبہ ثبوت کا بخشا ہے کہ جو گلاب کے پھول وغیرہ کو وہ ثبوت بے نظیری کا حاصل نہیں۔کیونکہ دنیا کے حکیموں اور صنعت کاروں کو کسی دوسری چیز میں اس طور پر معارضہ کے لئے کبھی ترغیب نہیں دی گئی اور نہ اس کی مثل بنانے سے عاجز رہنے کی حالت میں کبھی ان کو یہ خوف دلایا گیا کہ وہ طرح طرح کی تباہی اور ہلاکت میں ڈالے جائیں گے۔پس ظاہر ہے کہ جس بداہت اور چمک اور دمک سے قرآن شریف کی بلاغت اور فصاحت کا انسانی طاقتوں سے بلند تر ہونا ثابت ہے اس طرح پر گلاب کی لطافت اور رنگینی وغیرہ کا بے مثل ہونا ہرگز ثابت نہیں۔پس یہ تو سورۃ فاتحہ اور تمام قرآن شریف کی ظاہری خوبی کا بیان ہے جس میں اس کا بے مثل و مانند ہونا اور بشری طاقتوں سے برتر ہونا مخالفین کے عاجز رہنے سے یہ پایہ ثبوت پہنچ گیا ہے۔اب ہم باطنی خوبیوں کو بھی دوہرا کر ذکر کرتے ہیں تا اچھی طرح غور کرنے والوں کے ذہن میں آجائیں۔سو جاننا چاہئے کہ جیسا خداوند حکیم مطلق نے گلاب کے پھول میں بدن انسان کے لئے طرح طرح کے منافع رکھے ہیں کہ وہ دل کو قوت دیتا ہے اور قومی اور ارواح کو تقویت بخشتا ہے اور کئی اور مرضوں کو مفید ہے۔ایسا ہی خداوند کریم نے سورۃ فاتحہ میں تمام قرآن شریف کی طرح روحانی مرضوں کے شفار کبھی ہے اور باطنی بیماریوں کا اس میں وہ علاج موجود ہے کہ جو اس کے غیر میں ہر گز نہیں پایا گیا۔کیونکہ اس میں وہ کامل صداقتیں بھری ہوئی ہیں کہ جو روئے زمین سے نابود ہو گئی تھیں اور دنیا میں ان کا نام ونشان باقی نہیں رہا تھا۔پس وہ پاک کلام فضول اور بے فائدہ طور پر دنیا میں نہیں آیا بلکہ وہ آسمانی نور اس وقت تجلی فرما ہوا جبکہ دنیا کو اس کی نہایت ضرورت تھی اور ان تعلیموں کو لایا جن کا دنیا میں پھیلا نا دنیا کی اصلاح کے لئے نہایت ضروری تھا۔غرض جن پاک تعلیموں کی بغایت درجہ ضرورت تھی اور جن معارف حقائق کے شائع کرنے کی شدت سے حاجت تھی۔انہیں ضروری اور لابدی اور حقانی صداقتوں کو عین ضرورت کے وقتوں میں اور ٹھیک ٹھیک حاجت کے موقعہ میں ایک بے مثل بلاغت اور فصاحت کے پیرایہ میں بیان فرمایا اور باوصف اس التزام کے جو کچھ گمراہوں کی ہدایت کے لئے اور حالت موجودہ کی اصلاح کے لئے بیان کرنا واجب تھا۔اس سے ایک ڈرا ترک نہ کیا۔اور جو کچھ غیر واجب اور فضول اور بیہودہ تھا اس کا کسی فقرہ میں کچھ دخل ہونا نہ پایا۔غرض وہ انوار اور پاک صداقتیں باوصف اس شان عالی کے کہ جو ان کو بوجہ اعلیٰ درجہ کے معارف ہونے کے حاصل ہے۔ایک نہایت درجہ کی عظمت اور برکت یہ رکھتے ہیں کہ وہ عبث اور فضول طور پر ظاہر نہیں کی گئیں بلکہ جن جن اقسام انواع کی ظلمت دنیا میں پھیلی ہوئی تھی اور جس جس قسم کا جہل اور فساد علمی اور عملی اور اعتقادی امور میں حالت