تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 351 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 351

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۱ سورة الفاتحة سورۃ فاتحہ کا ذکر تھا آپ نے فرمایا کہ اس میں تین گروہوں کا ذکر ہے اول منعم علیہم۔دوم مغضوب۔سوم ضالین۔مغضوب سے مراد بالا تفاق یہود ہیں اور ضالین سے نصاری۔اب تو سیدھی بات ہے کہ کوئی دانشمند باپ بھی اپنی اولاد کو وہ تعلیم نہیں دیتا جو اس کے لئے کام آنے والی نہ ہو پھر خدا تعالیٰ کی نسبت یہ کیونکر روا رکھ سکتے ہیں کہ اس نے ایسی دعا تعلیم کی جو پیش آنے والے امور نہ تھے ؟ نہیں بلکہ یہ امور سب واقعہ ہونے والے تھے مغضوب سے مراد یہود ہیں اور دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُمت کے بعض لوگ یہودی صفت ہو جائیں گے یہاں تک کہ ان سے تشبہ اختیار کریں گے کہ اگر یہودی نے ماں سے زنا کیا ہو تو وہ بھی کریں گے۔اب وہ یہودی جو خدا تعالیٰ کے عذاب کے نیچے آئے حضرت عیسی علیہ السلام کی زبان سے اُن پر لعنت پڑی تھی۔اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں یہ سب واقعات پیش آئیں گے۔وہ وقت اب آ گیا ہے۔میری مخالفت میں یہ لوگ ان سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں رہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۹ مؤرخه ۱۷ اگست ۱۹۰۲ ء صفحه ۸) وہ یہودی جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں موجود تھے۔خدا نے دُعا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سکھلا کر اشارہ فرما دیا کہ وہ بروزی طور پر اس اُمت میں بھی آنے والے ہیں تا بروزی طور پر وہ بھی اس مسیح موعود کو ایذا دیں جو اس اُمت میں بروزی طور پر آنے والا ہے بلکہ یہ فرما یا کہ تم نمازوں میں سورۃ فاتحہ کو ضروری طور پر پڑھو۔یہ سکھلاتا ہے کہ مسیح موعود کا ضروری طور پر آنا مقدر ہے۔ایسا ہی قرآن شریف میں اس اُمت کے اشرار کو یہود سے نسبت دی گئی اور صرف اسی قدر نہیں بلکہ ایسے شخص کو جو مریمی صفت سے محض خدا کے نفخ سے عیسوی صفت حاصل کرنے والا تھا اُس کا نام سورۃ تحریم میں ابن مریم رکھ دیا ہے کیونکہ فرمایا ہے کہ جبکہ مثالی مریم نے بھی تقویٰ اختیار کیا تو ہم نے اپنی طرف سے رُوح پھونک دی اس میں اشارہ تھا کہ مسیح ابن مریم میں کلمتہ اللہ ہونے کی کوئی خصوصیت نہیں بلکہ آخری مسیح بھی کلمتہ اللہ ہے اور روح اللہ بھی بلکہ ان دونوں صفات میں وہ پہلے سے زیادہ کامل ہے جیسا کہ سورۃ تحریم اور سورۃ فاتحہ اور سورۃ النور اور آیت كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ (آل عمران:۱۱) سے سمجھا جاتا ہے۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۸۴) غرض یہ سلسلہ موسوی سلسلہ سے کسی صورت میں کم نہ رہا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک تو مماثلت اور مطابقت میں فرمایا کہ بدی کا حصہ بھی تم کو ویسے ہی ملے گا جیسے یہود کو ملا۔اور اس سلسلہ کی