تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 349
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۹ سورة الفاتحة غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ - غَيْرِ الْمَغْضُوبِ سے مراد با تفاق جميع اہل اسلام یہود ہیں اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک وقت اُمت پر آنے والا ہے جب کہ وہ یہود سے تشابہ پیدا کرے گی اور وہ زمانہ مسیح موعود ہی کا ہے جب کہ اس کے انکار اور کفر پر اسی طرح زور دیا جائے۔جیسا کہ حضرت مسیح ابن مریم کے کفر پر یہودیوں نے دیا تھا۔غرض اس دعا میں یہ سکھایا گیا کہ یہود کی طرح مسیح موعود کی تو ہین اور تکفیر سے ہم کو بیچا اور دوسرا عظیم الشان فتنہ جس کا ذکر سورۃ فاتحہ میں کیا ہے اور جس پر سورۃ فاتحہ کو ختم کر دیا ہے وہ نصاریٰ کا فتنہ ہے۔جو وَلَا الضَّالِّينَ میں بیان فرمایا ہے۔اب جب قرآن شریف کے انجام پر نظر کی جاتی ہے تو وہ بھی ان دونوں فتنوں کے متعلق کھلی کھلی شہادت دیتا ہے مثلاً غَيْرِ الْمَغْضُوبِ کے مقابل میں سورت تبت يدا ہے مجھے بھی فتویٰ کفر سے پہلے یہ الہام ہوا تھا۔وَ إِذْ يَمُكْرُ بِكَ الَّذِى كَفَرَ - أَوْ قِدُ لِي يُهَا مَنْ لَعَلَّى أَطَلِعْ عَلَى إِلَهِ مُوسَى وَ إِنِّي لَأَظُنُّهُ مِنَ الْكَذِبِينَ - تَبَّتْ يدا أبي لَهَبٍ وَ تَبَ - مَا كَانَ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ فِيهَا إِلَّا خَائِفًا وَمَا أَصَابَكَ فَمِنَ اللہ یعنی وہ زمانہ یاد کر جب کہ مظفر تجھے پر تکفیر کا فتویٰ لگائے گا۔اور اپنے کسی حامی کو جس کا لوگوں پر اثر پڑ سکتا ہو کہے گا کہ میرے لئے اس فتنہ کی آگ بھڑکا تا میں دیکھ لوں کہ یہ شخص جو موسیٰ کی طرح کلیم اللہ ہونے کا مدعی ہے خدا اس کا معاون ہے یا نہیں اور میں تو اُسے جھوٹا خیال کرتا ہوں۔ابی لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور آپ بھی ہلاک ہو گیا اس کو نہیں چاہئے تھا کہ اس میں دخل دیتا مگر ڈر ڈر کر اور جو رنج تجھے پہنچے گا۔وہ خدا کی طرف سے ہے۔غرض سورت مثبت میں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کے فتنہ کی طرف اشارہ ہے اور وَلَا الضَّالین کے مقابل قرآن شریف کے آخر میں سورہ اخلاص ہے اور اس کے بعد کی دونوں سورتیں سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ان دونوں کی تفسیر ہیں ان دونوں سورتوں میں اس تیرہ و تار زمانہ سے پناہ مانگی گئی ہے جب کہ مسیح موعود پر کفر کا فتوی لگا کر مَغْضُوبِ عَلیم کا فتنہ پیدا ہوگا اور عیسائیت کی ضلالت اور ظلمت دنیا پر محیط ہونے لگے گی۔پس جیسے سورہ فاتحہ میں جو ابتدائے قرآن ہے ان دونوں بلاؤں سے محفوظ رہنے کی دعا سکھائی گئی ہے اسی طرح قرآن شریف کے آخر میں بھی ان فتنوں سے محفوظ رہنے کی دعا تعلیم کی تاکہ یہ بات ثابت ہو جاوے که اول بآخر نسبتی دارد۔۔۔۔۔۔الضّالین کے مقابل آخر کی تین سورتیں ہیں۔اصل تو قُلْ هُوَ اللہ ہے اور باقی دونوں سورتیں اس کی