تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 343 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 343

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۳ سورة الفاتحة اور اُن کے قتل کرنے میں کچھ فرق نہیں کیا تھا اور توہین کو اُن کی مستورات تک پہنچادیا تھا تو پھر مسلمانوں کو اس دُعا سے کیا تعلق تھا اور کیوں یہ دُعا ان کو سکھلائی گئی۔اب معلوم ہوا کہ یہ تعلق تھا کہ اس جگہ بھی پہلے مسیح کی مانند ایک مسیح آنے والا تھا اور مقدر تھا کہ اُس کی بھی ویسی ہی تو ہین اور تکفیر ہو لہذا یہ دعا سکھلائی گئی جس کے یہ معنے ہیں کہ اے خدا! ہمیں اس گناہ سے محفوظ رکھ کہ ہم تیرے مسیح موعود کو دکھ دیں اور اُس پر کفر کا فتویٰ لکھیں اور اس کو سزا دلانے کے لئے عدالتوں کی طرف کھینچیں اور اس کی پاکدامن اہل بیت کی تو ہین کریں اور اُس پر طرح طرح کے بہتان لگا ئیں اور اس کے قتل کے لئے فتوے دیں۔غرض صاف ظاہر ہے کہ یہ دعا اسی لئے سکھلائی گئی کہ تا قوم کو اس یادداشت کے پرچہ کی طرح جس کو ہر وقت اپنی جیب میں رکھتے ہیں یا اپنی نشست گاہ کی دیوار پر لگاتے ہیں اس طرف توجہ دی جائے کہ تم میں بھی ایک مسیح موعود آنے والا ہے اور تم میں بھی وہ مادہ موجود ہے جو یہودیوں میں تھا۔غرض اس آیت پر ایک محققانہ نظر کے ساتھ غور کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک پیشگوئی ہے جو دُعا کے رنگ میں فرمائی گئی چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ حسب وعدہ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمُ ( النور : ۵۶) آخری خلیفہ اس اُمت کا حضرت عیسی علیہ السلام کے رنگ میں آئے گا۔اور ضرور ہے کہ وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح قوم کے ہاتھ سے دُکھ اُٹھائے اور اس پر کفر کا فتویٰ لکھا جاوے اور اس کے قتل کے ارادے کئے جائیں اس لئے ترقم کے طور پر تمام مسلمانوں کو یہ دُعا سکھلائی کہ تم خدا سے پناہ چاہو کہ تم ان یہودیوں کی طرح نہ بن جاؤ جنہوں نے موسوی سلسلہ کے مسیح موعود کو کا فرٹھہرایا تھا اور اس کی توہین کرتے تھے اور اُن کو گالیاں دیتے تھے اور اس دُعا میں صاف اشارہ ہے کہ تم پر بھی یہ وقت آنے والا ہے اور تم میں سے بھی بہتوں میں یہ مادہ موجود ہے۔پس خبر دار ہو اور دُعا میں مشغول رہوتا ٹھوکر نہ کھاؤ۔اور اس آیت کا دوسرا فقرہ جو العالمین ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ ہمیں اے ہمارے پروردگار اس بات سے بھی بچا کہ ہم عیسائی بن جائیں یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اُس زمانہ میں جب کہ مسیح موعود ظاہر ہوگا عیسائیوں کا بہت زور ہوگا اور عیسائیت کی ضلالت ایک سیلاب کی طرح زمین پر پھیلے گی۔اور اس قدر طوفان ضلالت جوش مارے گا کہ بجز دُعا کے اور کوئی چارہ نہ ہوگا اور تثلیث کے واعظ اس قدر مکر کا جال پھیلائیں گے کہ قریب ہوگا کہ راستبازوں کو بھی گمراہ کریں لہذا اس دُعا کو بھی پہلی دُعا کے ساتھ شامل کر دیا گیا۔اور اسی ضلالت کے زمانہ کی طرف اشارہ ہے جو حدیث میں آیا ہے کہ جب تم دقبال کو دیکھو تو سورہ کہف کی پہلی آیتیں پڑھو۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۰۱ تا ۲۱۱)