تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 341 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 341

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۱ سورة الفاتحة اشارہ ہے پس عیسیٰ کی آمد کی پیشگوئی اِس اُمت کے لئے ایسی ہی تھی جیسا کہ یہودیوں کے لئے حضرت یحییٰ کی آمد کی پیشگوئی ۔ غرض یہ نمونہ قائم کرنے کے لئے میرا نام عیسی رکھا گیا اور نہ صرف اس قدر بلکہ اس عیسیٰ کے مکذب جو اس امت میں ہونے والے تھے ان کا نام یہود رکھا گیا چنانچہ آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ میں انہیں یہودیوں کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی وہ یہودی جو اس اُمت کے عیسیٰ سے منکر ہیں جو ان یہودیوں کے مشابہ ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ کو قبول نہیں کیا تھا۔ پس اس طور سے کامل درجہ پر مشابہت ثابت ہو گئی کہ جس طرح وہ یہودی جو الیاس نبی کی دوبارہ آمد کے منتظر تھے حضرت عیسیٰ پر محض اس عذر سے کہ الیاس دوبارہ دنیا میں نہیں آیا ایمان نہ لائے ۔ اسی طرح یہ لوگ اِس اُمت کے عیسی پر محض اس عذر سے ایمان نہ لائے کہ وہ اسرائیلی عیسی دوبارہ دنیا میں نہیں آیا ۔ پس ان یہودیوں میں جو حضرت عیسیٰ پر ایمان نہیں لائے تھے اس وجہ سے کہ الیاس دوبارہ دنیا میں نہیں آیا اور ان یہودیوں میں جو حضرت عیسیٰ کی دوبارہ آمد کے منتظر ہیں مشابہت ثابت ہوگئی اور یہی خدا تعالیٰ کا مقصد تھا۔ اور جیسا کہ اسرائیلی یہودیوں اور ان یہودیوں میں مشابہت ثابت ہو گئی اسی طرح اسرائیلی عیسی اور اس عیسیٰ میں جو میں ہوں مشابہت بدرجہ کمال پہنچ گئی کیونکہ وہ عیسی اسی وجہ سے یہودیوں کی نظر سے رڈ کیا گیا کہ ایک نبی دوبارہ دنیا میں نہیں آیا اسی طرح یہ عیسیٰ جو میں ہوں ان یہودیوں کی نگاہ میں رڈ کیا گیا ہے کہ ایک نبی دوبارہ دنیا میں نہیں آیا ۔ اور صاف ظاہر ہے کہ جن لوگوں کو احادیث نبویہ اس اُمت کے یہودی ٹھہراتی ہیں جن کی طرف آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ بھی اشارہ کرتی ہے وہ اصل یہودی نہیں ہیں بلکہ اسی اُمت کے لوگ ہیں جن کا نام یہودی رکھا گیا ہے۔ اسی طرح وہ عیسیٰ بھی اصل عیسیٰ نہیں ہے جو بنی اسرائیل میں سے ایک نبی تھا بلکہ وہ بھی اِسی اُمت میں سے ہے اور یہ خدا تعالیٰ کی اس رحمت اور فضل سے بعید ہے جو اس اُمت کے شاملِ حال رکھتا ہے کہ وہ اِس اُمت کو یہودی کا خطاب تو دے بلکہ ان یہودیوں کا خطاب دے جنہوں نے الیاس نبی کے دوبارہ آنے کی حجت پیش کر کے حضرت عیسیٰ کو کافر اور کذاب ٹھہرایا تھا لیکن اس اُمت کے کسی فرد کو عیسیٰ کا خطاب نہ دے تو کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا ہے کہ یہ اُمت خدا تعالیٰ کے نزدیک کچھ ایسی بدبخت اور بد قسمت ہے کہ اس کی نظر میں شریر اور نافرمان یہودیوں کا خطاب تو پاسکتی ہے مگر اس امت میں ایک فرد بھی ایسا نہیں کہ عیسیٰ کا خطاب پاوے پس یہی حکمت تھی کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ نے اس اُمت کے بعض افراد کا نام یہودی رکھ دیا اور دوسری طرف ایک فرد کا نام عیسی بھی رکھ دیا۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۰۷ تا ۴۰۹)