تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 338 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 338

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۸ سورة الفاتحة منع کرتا ہے یا نیک کام کے لئے حکم فرماتا ہے تو اُس کے علم قدیم میں یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگ اس کے حکم کی مخالفت بھی کریں گے۔پس خدا تعالیٰ کا سورہ فاتحہ میں یہ فرمانا کہ تم دُعا کیا کرو کہ تم وہ یہودی نہ بن جاؤ جنہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو شولی دینا چاہا تھا جس سے دنیا میں ہی اُن پر غضب الہی کی مار پڑی۔اس سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے علم میں یہ مقدر تھا کہ بعض افراد اس اُمت کے جو علماء امت کہلائیں گے۔اپنی شرارتوں اور تکذیب مسیح وقت کی وجہ سے یہودیوں کا جامہ پہن لیں گے ورنہ ایک افودُعا کے سکھلانے کی کچھ ضرورت نہ تھی۔یہ تو ظاہر ہے کہ علماء اس اُمت کے اس طرح کے یہودی نہیں بن سکتے کہ وہ اسرائیل کے خاندان میں سے بن جائیں اور پھر اس عیسی بن مریم کو جو مدت سے اس دنیا سے گزر چکا ہے ٹولی دینا چاہیں کیونکہ اب اس زمانہ میں نہ وہ یہودی اس زمین پر موجود ہیں نہ وہ عیسی موجود ہے۔پس ظاہر ہے کہ اس آیت میں ایک آئندہ واقعہ کی طرف اشارہ ہے اور یہ بتلانا منظور ہے کہ اس اُمت میں عیسی مسیح کے رنگ میں آخری زمانہ میں ایک شخص مبعوث ہوگا اور اس کے وقت کے بعض علماء اسلام ان یہودی علماء کی طرح اس کو دُکھ دیں گے جو عیسی علیہ السلام کو دُکھ دیتے تھے اور ان کی شان میں بدگوئی کریں گے بلکہ احادیث صحیحہ سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ یہودی بننے کے یہ معنی ہیں کہ یہودیوں کے بداخلاق اور بد عادات علماء اسلام میں پیدا ہو جائیں گی اور گو بظاہر مسلمان کہلائیں گے مگر اُن کے دل مسخ ہو کر ان یہودیوں کے رنگ سے رنگین ہو جائیں گے جو حضرت عیسی علیہ السلام کو دکھ دے کر مورد غضب الہی ہوئے تھے پس جبکہ یہودی یہی لوگ بنیں گے جو مسلمان کہلاتے ہیں تو کیا یہ اس اُمتِ مرحومہ کی بے عزبتی نہیں کہ یہودی بننے کے لئے تو یہ مقرر کئے جائیں مگر مسیح جو ان یہودیوں کو درست کرے گا وہ باہر سے آوے یہ تو قرآن شریف کے منشاء کے سراسر برخلاف ہے۔قرآن شریف نے سلسلہ محمدیہ کو ہر ایک نیکی اور بدی میں سلسلہ موسویہ کے مقابل رکھا ہے نہ صرف بدی میں۔ماسوا اس کے آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کا صریح یہ منشاء ہے کہ وہ لوگ یہودی اس لئے کہلائیں گے کہ خدا کے مامور کو جو ان کی اصلاح کے لئے آئے گا بنظر تحقیر وانکار دیکھیں گے اور اس کی تکذیب کریں گے اور اس کوقتل کرنا چاہیں گے اور اپنے قومی تعصبیہ کو اس کی مخالفت میں بھڑ کا ئیں گے۔اس لئے وہ آسمان پر مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ کہلائیں گے اُن یہودیوں کی مانند جو حضرت عیسی علیہ السلام کے مکذب تھے جس تکذیب کا آخر کار نتیجہ یہ ہوا تھا کہ سخت طاعون یہود میں پڑی تھی اور بعد اس کے طیطوس رومی کے ہاتھ سے وہ نیست و نابود کئے گئے تھے۔پس آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے ظاہر ہے کہ دنیا