تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 337
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۷ سورة الفاتحة حضرت عیسی علیہ السلام کو سولی پر ہلاک کرنا چاہا تھا۔اب خدا تعالیٰ کا یہ دعا سکھلا نا کہ خدا یا ایسا کر کہ ہم وہی یہودی نہ بن جائیں جنہوں نے عیسی کو قتل کرنا چاہا تھا صاف بتلا رہا ہے کہ امت محمدیہ میں بھی ایک عیسی پیدا ہونے والا ہے۔ورنہ اس دُعا کی کیا ضرورت تھی۔اور نیز جبکہ آیات مذکورہ بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی زمانہ میں بعض علماء مسلمان بالکل علماء یہود سے مشابہ ہو جائیں گے اور یہود بن جائیں گے۔پھر یہ کہنا کہ ان یہودیوں کی اصلاح کے لئے اسرائیلی عیسی آسمان سے نازل ہوگا بالکل غیر معقول بات ہے کیونکہ اول تو باہر سے ایک نبی کے آنے سے مہر ختم نبوت ٹوٹتی ہے اور قرآن شریف صریح طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء پھہراتا ہے۔ماسوا اس کے قرآن شریف کے رُو سے یہ امت خیر الام کہلاتی ہے۔پس اس کی اس سے زیادہ بے عزباتی اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ یہودی بننے کے لئے تو یہ امت ہو مگر عیسی باہر سے آوے۔اگر یہ سچ ہے کہ کسی زمانہ میں اکثر علماء اس اُمت کے یہودی بن جائیں گے۔یعنی یہود خصلت ہو جائیں گے۔تو پھر یہ بھی سچ ہے کہ ان یہود کے درست کرنے کے لئے عیسی باہر سے نہیں آئے گا بلکہ جیسا کہ بعض افراد کا نام یہود رکھا گیا ہے۔ایسا ہی اس کے مقابل پر ایک فرد کا نام عیسی بھی رکھا جائے گا۔اس بات کا انکار نہیں ہو سکتا کہ قرآن اور حدیث دونوں نے بعض افراد اس اُمت کا نام یہود رکھا ہے۔جیسا کہ آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ علیم سے بھی ظاہر ہے۔کیونکہ اگر بعض افراد اس اُمت کے یہودی بننے والے نہ ہوتے تو دُعا مذکورہ بالا ہرگز نہ سکھلائی جاتی۔جب سے دنیا میں خدا کی کتابیں آتی ہیں۔خدا تعالی کا ان میں یہی محاورہ ہے کہ جب کسی قوم کو ایک بات سے منع کرتا ہے کہ مثلاً تم زنانہ کرو، یا چوری نہ کرو، یا یہودی نہ بنو تو اس منع کے اندر یہ پیشگوئی مخفی ہوتی ہے کہ بعض ان میں سے ارتکاب ان جرائم کا کریں گے۔دنیا میں کوئی شخص ایسی نظیر پیش نہیں کر سکتا کہ ایک جماعت یا ایک قوم کو خدا تعالیٰ نے کسی ناکردنی کام سے منع کیا ہو اور پھر وہ سب کے سب اس کام سے باز رہے ہوں بلکہ ضرور بعض اس کام کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے توریت میں یہودیوں کو یہ حکم دیا کہ تم نے توریت کی تحریف نہ کرنا سو اس حکم کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض یہود نے توریت کی تحریف کی۔مگر قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو کہیں یہ حکم نہیں دیا کہ تم نے قرآن شریف کی تحریف نہ کرنا۔بلکہ یہ فرمایا کہ انا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ (الحجر:۱۰) یعنی ہم نے ہی قرآن شریف کو اُتارا اور ہم ہی اس کی محافظت کریں گے۔اسی وجہ سے قرآن شریف تحریف سے محفوظ رہا۔غرض یہ قطعی اور یقینی اور مسلم سنت الہی ہے کہ جب خدائے تعالیٰ کسی کتاب میں کسی قوم یا جماعت کو ایک برے کام سے