تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 13
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳ سورة الفاتحة ہے اور زمانہ دراز کا تجربہ بھی اس کے مرتبہ اعجاز پر گواہی دیتا ہے اور اگر کسی کو یہ دونوں طور کی گواہی کہ جو عقل اور تجربہ زمانہ دراز کے رو سے یہ پایہ ثبوت پہنچ چکی ہے نا منظور ہو اور اپنے علم اور ہنر پر نازاں ہو یا دنیا میں کسی ایسے بشر کی انشا پردازی کا قائل ہو کہ جو قرآن شریف کی طرح کوئی کلام بنا سکتا ہے تو ہم۔۔۔کچھ بطور نمونہ حقائق دقائق سورۃ فاتحہ کے لکھتے ہیں اس کو چاہئے کہ ہم مقابلہ ان ظاہری و باطنی سورۃ فاتحہ کی خوبیوں کے کوئی اپنا کلام پیش کرے۔برا این احمد یہ چہار تحصص ، روحانی خزائن جلد اصلحه ۳۹۴ تا ۴۰۳ حاشیہ نمبر ۱۱) سورۃ فاتحہ کے بے نظیر ہونے پر بعض مزید دلائل سورۃ فاتحہ میں تمام قرآن شریف کی طرح دو قسم کی خوبیاں کہ جو بے مثل و مانند ہیں پائی جاتی ہیں یعنی ایک ظاہری صورت میں خوبی اور ایک باطنی خوبی۔ظاہری خوبی یہ کہ۔۔۔اُس کی عبارت میں ایسی رنگینی اور آب و تاب اور نزاکت و لطافت و ملائمت اور بلاغت اور شیرینی اور روانگی اور حسن بیان اور حسن ترتیب پایا جاتا ہے کہ ان معانی کو اس سے بہتر یا اس سے مساوی کسی دوسری فصیح عبارت میں ادا کرناممکن نہیں اور اگر تمام دنیا کے انشا پرداز اور شاعر متفق ہو کر یہ چاہیں کہ اس مضمون کو لے کر اپنے طور سے کسی دوسری فصیح عبارت میں لکھیں کہ جو سورۃ فاتحہ کی عبارت سے مساوی یا اس سے بہتر ہو تو یہ بات بالکل محال اور ممتنع ہے کہ ایسی عبارت لکھ سکیں۔کیونکہ تیرہ سو برس سے قرآن شریف تمام دنیا کے سامنے اپنی بے نظیری کا دعویٰ پیش کر رہا ہے اگر ممکن ہوتا تو البتہ کوئی مخالف اس کا معارضہ کر کے دکھلاتا۔حالانکہ ایسے دعوی کے معارضہ نہ کرنے میں تمام مخالفین کی رُسوائی اور ذلت اور قرآن شریف کی شوکت اور عزات ثابت ہوتی ہے۔پس چونکہ تیرہ سو برس سے اب تک کسی مخالف نے عبارت قرآنی کی مثل پیش نہیں کی تو اس قدر زمانہ دراز تک تمام مخالفین کا مثل پیش کرنے سے عاجز رہنا اور اپنی نسبت ان تمام رُسوائیوں اور ندامتوں اور لعنتوں کو روا رکھنا کہ جو جھوٹوں اور لا جواب رہنے والوں کی طرف عائد ہوتے ہیں صریح اس بات پر دلیل ہے کہ فی الحقیقت ان کی علمی طاقت مقابلہ سے عاجز رہی ہے اور اگر کوئی اس امر کو تسلیم نہ کرے تو یہ بار ثبوت اسی کی گردن پر ہے کہ وہ آپ یا کسی اپنے مددگار سے عبارت قرآن کی مثل بنوا کر پیش کرے۔مثلاً سورۃ فاتحہ کے مضمون کو لے کر کوئی دوسری فصیح عبارت بنا کر دکھلاوے جو کمال بلاغت اور فصاحت میں اس کے برابر ہو سکے اور جب تک ایسا نہ کرے تب تک وہ ثبوت کہ جو مخالفین کے تیرہ سو برس خاموش اور لاجواب رہنے سے اہل حق کے ہاتھ میں ہے کسی طور سے ضعیف الاعتبار نہیں ہوسکتا۔بلکہ مخالفین کے سینکڑوں برسوں کی خاموشی اور لا جواب رہنے نے