تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 333
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۳ سورة الفاتحة الْبَلَاغَةِ وَحُسْنِ الْبَيَانِ، وَلَا يُنْكِرُهُ إِلَّا ہے اور مقابلہ کی رعایت رکھنا اعلیٰ درجہ کی بلاغت اور الْجَاهِلُونَ فَظَهَرَ مِنْ هَذَا الْمَقَامِ بِالظُّهُورِ حسن بیان میں داخل ہے اور جاہل کے سوا کوئی اس معنے الْبَيْنِ الثَّاةِ أَنَّهُ مَن قَرَأَ هَذَا الدُّعَاء فی سے انکار نہیں کرتا۔اس مقام سے اچھی طرح معلوم ہوا صَلَاتِهِ أَوْ خَارِجَ الصَّلَاةِ فَقَدْ سَأَلَ رَبِّه آن کہ جو کوئی نماز میں یا نماز سے باہر اس دعا کو پڑھتا ہے وہ يُدخِلَة فِي جَمَاعَةِ الْمَسِيحِ الَّذِي يُكَفِّرُهُ اپنے پروردگار سے سوال کرتا ہے کہ اس کو اس مسیح کی جماعت قَوْمُه وَ يُكَذِّبُونَهُ وَيُفَسّقُونَهُ وَيَحْسَبُونَهُ میں داخل فرما دے جس کو اس کی قوم کا فر کہے گی اور اس کی شَرِّ الْمَخْلُوقَاتِ وَيُسَمُونَهُ دَجَّالًا وَمُلْحِدًا تکذیب کرے گی اور اس کو سب مخلوقات سے بدتر سمجھے گی ضَالَّا كَمَا سَمَّى عِيسَى الْيَهُودُ الْمَلْعُونُ اور اس کا نام دجال اور ملحد اور گمراہ رکھے گی جیسا کہ یہود خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۱۹۰ تا ۱۹۸) ملعون نے عیسی کا نام رکھا تھا۔( ترجمہ اصل کتاب سے ) فَالَّذِينَ سَمَّاهُمُ اللهُ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ پس وہ لوگ جن کو خدا نے (سورۃ فاتحہ میں فى الْفَاتِحَةِ هُمُ الْيَهُودُ الَّذِينَ كَذَّبُوا مَغْضُوبِ عَلَيہم کہا ہے وہی یہودی ہیں جنہوں الْمَسِيحَ وَأَرَادُوا أَنْ يُصَلِّبُوهُ وَيَعْلَمُهُ نے مسیح کی تکذیب کی اور چاہا کہ اسے عولی دیں۔اور الْعَالِمُونَ وَ إِنَّ لَفَظَ الضَّالِينَ الَّذِى وَقَعَ ضالین کا لفظ جو مغضوب علیہم کے بعد واقع ہوا ان معنوں بَعْد الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ قَرِيْنَةٌ قَطْعِيَّةٌ عَلى پر یقین قرینہ ہے۔اس پر جاہل کے سوا کوئی شک نہیں هذَا الْمَعْلى وَلَا يَرْتَابُ فِيهِ إِلَّا الْجَاهِلُونَ لاتا کیونکہ ضالین وہ لوگ ہیں جنہوں نے عیسی کے فَإِنَّ الصَّالِينَ قَوْمُ أَفَرَطُوا فِي أَمْرِ عِیسٰی، بارہ میں افراط کیا۔یہاں سے ثابت ہوا کہ مغضوب فَقَبَتَ مِنْ هَذَا أَنَّ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ قَوْمٌ علیہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کی نسبت تفریط کی اور فَرَّطوا في أَمْرِهِ، وَهَذَانِ اسْمَانِ مُتَقَابِلَانِ یہ دو نام ایک دوسرے کے مقابل پر واقع ہوئے أَيُّهَا النَّاظِرُوْنَ ثُمَّ خَوَفَكُمُ اللهُ أَنْ ہیں۔پھر خدا نے تم کو اس بات سے ڈرایا کہ تم ان کی تَكُونُوا كَبِفْلِهِمْ فَيَحِلَّ الْغَضَبُ عَلَيْكُمْ طرح ہو جاؤ اور انجام کا رویسا ہی غضب تم پر اترے كَمَا حَلَّ عَلى أَعْدَاءِ الْمَسِيحَ وَ مَسَّهُمْ جیسا کہ مسیح کے دشمنوں پر نازل ہوا اور وہ لعنت ان لغيّتُهُ الْمَذْكُورَة في القران خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۲۰۲ تا ۲۰۴) کے شامل حال ہوئی جس کا قرآن میں ذکر ہے۔( ترجمہ اصل کتاب سے )