تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 325 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 325

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۵ سورة الفاتحة تھا۔اور جن کو تیرے مسیح کی مخالفت کرنے کے سبب سے طرح طرح کی آفات ارضی و سماوی کا ذائقہ چکھنا پڑا تھا سو جاننا چاہئے کہ یہی وہ زمانہ ہے جس کی طرف آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ اشارہ کرتی ہے۔اور وہی خدا کا سچا مسیح ہے جو اس وقت تمہارے درمیان بول رہا ہے۔یادرکھو کہ اللہ تعالی پچیس برس سے صبر کرتا رہا ہے۔ان لوگوں نے کوئی دقیقہ میری مخالفت کا اٹھا نہیں رکھا ہر طرح سے شوخیاں کی گئیں طرح طرح کے الزام ہم پر لگائے گئے اور ان شوخیوں اور شرارتوں میں پوری سرگرمی سے کام لیا گیا۔ہر پہلو سے میرے فنا اور معدوم کرنے کے لئے زور لگائے گئے اور ہمارے لئے طرح طرح کے کفر نامے تیار کئے گئے اور نصاری اور یہود سے بھی بدتر ہمیں سمجھا گیا۔حالانکہ ہم کلمہ طیبہ لا إله إلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ پر دل و جان سے یقین رکھتے تھے۔قرآن شریف کو خدا تعالی کی سچی اور کامل کتاب سمجھتے تھے اور سچے دل سے اسے خاتم الکتب جانتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سچے دل سے خاتم النبیین سمجھتے تھے۔وہی نمازیں تھیں وہی قبلہ تھا۔اسی طرح سے ماہ رمضان کے روزے رکھتے تھے۔حج اور زکوۃ میں بھی کوئی فرق نہ تھا۔پھر معلوم نہیں کہ وہ کون سے وجوہات تھے جن کے سبب سے ہمیں یہود اور نصاری سے بھی بدتر ٹھہرایا گیا اور دن رات ہمیں گالیاں دینا موجب ثواب سمجھا گیا۔آخر شرافت بھی تو کوئی چیز ہے اس طرح کا طریق تو وہی لوگ اختیار کرتے ہیں جن کے ایمان مسلوب اور دل سیاہ ہو جاتے ہیں۔غرض چونکہ خدا جانتا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب کہ مسلمان یہود سیرت ہو جائیں گے۔اس لئے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ والی دعا سکھا دی۔اور پھر فرمایا وَلَا الضَّايِّينَ یعنی نہ ہی ان لوگوں کی راہ پر چلانا۔جنہوں نے تیری سچی اور سیدھی راہ سے منہ موڑ لیا۔اور یہ عیسائیوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انجیل کے ذریعہ سے یہ تعلیم ملی تھی۔کہ خدا کو ایک اور واحد لاشریک مانو۔مگر انہوں نے اس تعلیم کو چھوڑ دیا اور ایک عورت کے بیٹے کو خدا بنالیا۔کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ مَغْضُوبِ عَلَيْهِم تو بڑا سخت لفظ ہے اور ضالین نرم لفظ ہے۔یہ نرم لفظ نہیں۔بات یہ ہے کہ یہودیوں کا تھوڑا گناہ تھا وہ توریت کے پابند تھے اور اس کے حکموں پر چلتے تھے۔گو وہ شوخیوں اور شرارتوں میں بہت بڑھ گئے تھے مگر وہ کسی کو خدا یا خدا کا بیٹا بنانے کے سخت دشمن تھے اور سورہ فاتحہ میں ان کا نام جو پہلے آیا ہے تو وہ اس واسطے نہیں کہ ان کے گناہ زیادہ تھے بلکہ اس واسطے کہ اسی دنیا میں ہی ان کو سزادی گئی تھی اور اس کی مثال اس طرح پر ہے کہ ایک تحصیلدار انہیں کو جرمانہ کرتا ہے جن کا قصور اس کے اختیار سے باہر نہیں ہوتا۔مثلاً فرض کرو کہ کسی بھاری سے بھاری گناہ پر وہ اپنی طرف سے ۲۰،۵۰ روپیہ جرمانہ کر سکتا