تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 324 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 324

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۴ سورة الفاتحة زیادہ ہوا اس طرف کی آواز کو زیادہ سن لیا۔یا مثلاً دیکھتا ہے کہ جب تک سورج چاند چراغ وغیرہ کی روشنی نہ ہو انسان دیکھ نہیں سکتا۔تو کیا خدا بھی روشنیوں کا محتاج ہے؟ غرض انسان کا دیکھنا اور رنگ کا ہے اور خدا کا اور رنگ کا ہے۔اس کی حقیقت خدا کے سپرد کرنی چاہئے۔آریہ وغیرہ جو اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ کو غضب ناک کہا گیا ہے۔یہ ان کی صریح غلطی ہے۔ان کو چاہئے تھا کہ قرآن مجید کی دوسری جگہوں پر نظر کرتے۔وہاں تو صاف طور پر لکھا ہے عن ابى أصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ ۚ وَ رَحْمَتِي وَسِعَتْ حل شنی و (الاعراف: ۱۵۷)۔خدا کی رحمت تو کل چیزوں کے شامل حال ہے۔مگر ان کو دقت ہے تو یہ ہے کہ خدا کی رحمت کے تو وہ قائل ہی نہیں۔ان کے مذہبی اصول کے بموجب اگر کوئی شخص بصد مشکل مکتی حاصل کر بھی لے تو آخر پھر وہاں سے بھی نکلنا ہی پڑے گا۔غرض خوب یا درکھو کہ خدا تعالیٰ کے کلام پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔جیسے خدا ہر ایک عیب سے پاک ہے ویسے ہی اس کا کلام بھی ہر ایک قسم کی غلطی سے پاک ہوتا ہے۔اور یہ جو فرمایا ہے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِم تو اس سے یہ مراد ہے کہ یہود ایک قوم تھی جو توریت کو مانتی تھی۔انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی بہت تکذیب کی تھی اور بڑی شوخی کے ساتھ ان سے پیش آئے تھے۔یہاں تک کہ کئی بار ان کے قتل کا ارادہ بھی انہوں نے کیا تھا۔اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب کوئی شخص کسی فن کو کمال تک پہنچا دیتا ہے تو پھر وہ بڑا نامی گرامی اور مشہور ہو جاتا ہے اور جب بھی اس فن کا ذکر شروع ہوتا ہے تو پھر اسی کا نام ہی لیا جاتا ہے۔مثلاً دنیا میں ہزاروں پہلوان ہوئے ہیں اور اس وقت بھی موجود ہیں مگر رستم کا ذکر خاص طور پر کیا جاتا ہے۔بلکہ اگر کسی کو پہلوانی کا خطاب بھی دیا جاتا ہے تو اسے بھی رستم ہند وغیرہ کر کے پکارا جاتا ہے یہی حال یہود کا ہے کوئی نبی نہیں گذرا جس سے انہوں نے شوخی نہیں کی اور حضرت عیسی علیہ السلام کی تو انہوں نے یہاں تک مخالفت کی کہ صلیب پر چڑھانے سے بھی دریغ نہیں کیا اور ان کے مقابلہ پر ہر ایک شرارت سے کام لیا۔ہاں اگر یہ سوال پیدا ہو کہ یہود نے تو انبیاء کے مقابل پر شوخیاں اور شرارتیں کی تھیں مگر اب تو سلسلہ نبوت ختم ہو چکا ہے۔اس لئے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ والی دُعا کی کوئی ضرورت نہ تھی۔اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ آخری زمانہ میں مسیح نازل ہوگا۔اور مسلمان لوگ اس کی تکذیب کر کے یہود خصلت ہو جائیں گے اور طرح طرح کی بدکاریوں اور قسم قسم کی شوخیوں اور شرارتوں میں ترقی کر جاویں گے اس لئے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ والی دعا سکھائی ہے کہ اے مسلمانوں پنجگانہ نمازوں کی ہر ایک رکعت میں دُعا مانگتے رہو کہ یا الہی ہمیں ان کی راہ سے بچائے رکھیو۔جن پر تیرا غضب اسی دنیا میں نازل ہوا