تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 323 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 323

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٢٣ سورة الفاتحة اس اُمت میں سے آوے اسی کی طرف تو اس آیت کا اشارہ ہے اِھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ اعجاز احمدی نعیمه نزول مسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۲۰،۱۱۹) انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - خدا فرماتا ہے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ یعنی اے مسلمانوں تم خدا سے دُعا مانگتے رہو کہ یا الہی ہمیں ان لوگوں میں سے نہ بنانا جن پر اس دنیا میں ہی تیرا غضب نازل ہوا ہے۔اور نہ ہی ان لوگوں کا راستہ دکھانا جو کہ راور است سے گمراہ ہو گئے ہیں۔اور یہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے یہ بطور قصہ یا کتھا کے بیان نہیں کیا۔بلکہ وہ جانتا تھا کہ جس طرح پہلی قوموں نے بدکاریاں کیں اور نبیوں کی تکذیب اور تفسیق میں حد سے بڑھ گئیں۔اسی طرح مسلمانوں پر بھی ایک وقت آئے گا جب کہ وہ فسق و فجور میں حد سے بڑھ جاویں گے اور جن کاموں سے اُن قوموں پر خدا کا غضب بھڑکا تھا۔ویسے ہی کام مسلمان بھی کریں گے اور خدا کا غضب ان پر نازل ہوگا۔تفسیروں اور احادیث والوں نے مغضوب سے یہود مراد لئے ہیں۔کیونکہ یہود نے خدا تعالیٰ کے انبیاء کے ساتھ بہت ہنسی ٹھٹھا کیا تھا۔اور حضرت عیسی علیہ السلام کو خاص طور پر دکھ دیا تھا۔اور نہایت درجہ کی شوخیاں اور بے باکیاں انہوں نے دکھائی تھیں۔جن کا آخری نتیجہ یہ ہوا تھا کہ اسی دنیا میں ہی خدا کا غضب ان پر نازل ہوا تھا۔مگر اس جگہ خدا کے غضب سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ (معاذ اللہ ) خدا چڑ جاتا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان بہ سبب اپنے گناہوں کے نہایت درجہ کے پاک اور قدوس خدا سے دور ہو جاتا ہے یا مثال کے طور پر یوں سمجھ لو کہ ایک شخص کسی ایسے حجرہ میں بیٹھا ہوا ہوجس کے چار دروازے ہوں۔اگر وہ ان دروازوں کو کھولے گا تو دھوپ اور آفتاب کی روشنی اندر آتی رہے گی اور اگر وہ سب دروازے بند کر دے گا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ روشنی کا آنا بند ہو جائے گا غرض یہ بات سچی ہے کہ جب انسان کوئی فعل کرتا ہے تو سنت اللہ اسی طرح سے ہے کہ اس فعل پر ایک فعل خدا کی طرف سے سرزد ہوتا ہے جیسے اس شخص نے اپنی بدقسمتی سے ، جب چاروں دروازے بند کر دیئے تھے تو اس پر خدا کا فعل یہ تھا کہ اس مکان میں اندھیرا ہی اندھیرا ہو گیا۔غرض اس اندھیرا کرنے کا نام خدا کا غضب ہے۔یہ مت سمجھو کہ خدا کا غضب بھی اسی طرح کا ہوتا ہے کہ جس۔طرح سے انسان کا غضب ہوتا ہے کیونکہ خدا خدا ہے اور انسان انسان ہے۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ جس طرح سے ایک انسان کام کرتا ہے خدا بھی اسی طرح سے ہی کرتا ہے۔مثلاً خدا سنتا ہے تو کیا اس کو سننے کے لئے انسان کی طرح ہوا کی ضرورت ہے اور کیا اس کا سننا بھی انسان کی طرح سے ہے کہ جس طرف ہوا کا رُخ