تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 322 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 322

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۲ سورة الفاتحة ہے کہ وہ باتیں آج پوری ہوئیں۔نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۱۴، ۴۱۵) سورۃ فاتحہ میں خدا نے مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔اس جگہ احادیث صحیحہ کے رُو سے بکمال تواتر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مراد بد کار اور فاسق یہودی ہیں جنہوں نے حضرت مسیح کو کافر قرار دیا اور قتل کے درپے رہے اور اُس کی سخت توہین و تحقیر کی اور جن پر حضرت عیسی نے لعنت بھیجی جیسا کہ قرآن شریف میں مذکور ہے اور الضّالین سے مراد عیسائیوں کا وہ گمراہ فرقہ ہے جنہوں نے حضرت عیسی کو خدا سمجھ لیا اور تثلیث کے قائل ہوئے اور خون صحیح پر نجات کا حصر رکھا اور ان کو زندہ خدا کے عرش پر بٹھا دیا۔اب اس دُعا کا مطلب یہ ہے کہ خدا یا ایسا فضل کر کہ ہم نہ تو وہ یہودی بن جائیں جنہوں نے مسیح کو کا فرقرار دیا تھا اور ان کے قتل کے درپے ہوئے تھے اور نہ ہم سب کو خدا قرار دیں اور تثلیث کے قائل ہوں۔چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ آخری زمانہ میں اِسی اُمت میں سے مسیح موعود آئے گا اور بعض یہودی صفت مسلمانوں میں سے اس کو کافر قرار دیں گے اور قتل کے درپے ہوں گے اور اس کی سخت توہین و تحقیر کریں گے اور نیز جانتا تھا کہ اس زمانہ میں تثلیث کا مذہب ترقی پر ہوگا اور بہت سے بد قسمت انسان عیسائی ہو جائیں گے اس لئے اُس نے مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی اور اس دُعا میں مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کا جو لفظ ہے وہ بلند آواز سے کہہ رہا ہے کہ وہ لوگ جو اسلامی مسیح کی مخالفت کریں گے وہ بھی خدا تعالیٰ کی نظر میں مغضُوبِ عَلَيْهِمْ ہوں گے جیسا کہ اسرائیلی مسیح کے مخالف مغضوب علیہم تھے۔( نزول مسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۱۹) ہم نے تو اس زمانہ میں یہود دیکھ لئے اور ہم ایمان لائے کہ آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ اس بات کی طرف اشارہ کرتی تھی کہ اس قوم میں بھی مغضوب علیہم یہودی ضرور پیدا ہوں گے سو ہو گئے اور پیشگوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری ہو گئی مگر کیا یہ اُمت کچھ ایسی ہی بد قسمت ہے کہ ان کی تقدیر میں یہود بنا ہی لکھا تھا اس فعل کو ہم خدائے کریم کی طرف کبھی منسوب نہیں کر سکتے کہ یہود مردود بننے کے لئے تو یہ اُمت اور مسیح بنی اسرائیل سے آوے ایسی کارروائی سے تو اس اُمت کی ناک کٹتی ہے اور اس خطاب کے لائق نہیں رہتی کہ اس کو امت مرحومہ کہا جاوے پس اس اُمت کا یہود بنا جیسا کہ آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے سمجھا جاتا ہے اس بات کو چاہتا ہے کہ جو یہود مغضوب علیہم کے مقابل مسیح آیا تھا اس کا مثیل بھی