تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 321
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۱ سورة الفاتحة اپنے آپ کو ٹولو اور اگر بچہ کی طرح اپنے آپ کو کمزور پاؤ تو گھبراؤ نہیں۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا صحابہ کی طرح جاری رکھو۔راتوں کو اٹھو اور دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ تم کو اپنی راہ دکھلائے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۵۶) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم کی دُعا سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک فلقی سلسلہ پیغمبروں کا اس اُمت میں قائم کرنا چاہتا ہے۔مگر جیسا کہ قرآن کریم میں سارے انبیاء کا ذکر نہیں اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی کا ذکر کثرت سے ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس اُمت میں بھی مثیل موسی یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مثیل عیسی یعنی امام مہدی سب سے عظیم الشان اور خاص ذکر کے قابل ہیں۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۰ مؤرخه ۱۷ مارچ ۱۹۰۱ء صفحه ۸) سوال ہوا کہ جولوگ آپ کو نہیں مانتے وہ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے نیچے ہیں یا کہ نہیں؟ حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا کہ اَنْعَمتَ عَلَيْهِمْ میں تو میں اپنی جماعت کو بھی شامل نہیں کر سکتا جب تک کہ خدا کسی کو نہ کرے۔جو کلمہ گو سچے دل سے قرآن پر عمل کرنے کے لیے تیار ہو بشر طیکہ سمجھا یا جاوے وہ اپنا اجر پائے گا۔جس قدر کوئی مانے گا اسی قدر ثواب پائے گا۔جتنا انکار کرے گا اتنی ہی تکلیف اُٹھائے گا۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۰ مورخه ۱۷ مارچ ۱۹۰۱ صفحه ۸) گناہ کی حالت میں انسان پستی اور ذلت میں ہوتا ہے اور جوں جوں گناہ کرتا جاتا ہے نیچے ہی نیچے چلا جاتا ہے لیکن جب گناہوں پر موت آتی ہے تو وہ اس پستی کے گڑھے میں ہی پڑا ہوا ہوتا ہے جب تک اوپر چڑھنے کے لئے اسے زنجبیلی شربت نہ ملے۔پس نیکیوں کی توفیق عطا ہونے پر وہ پھر اوپر چڑھنا شروع کرتا ہے کہ اور یہ پہاڑی گھاٹیاں وہی ہیں جو صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمتَ عَلَيْهِمْ میں بیان ہوئی ہیں۔خدا تعالیٰ کے راست بازوں اور منعم علیہم کی راہ ہی وہ اصل مقصود ہے جو انسان کے لئے خدا تعالیٰ نے رکھی ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۴۵ مؤرخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۱ صفحه ۲) سورۃ فاتحہ میں ایک مخفی پیشگوئی موجود ہے اور وہ یہ کہ جس طرح یہودی لوگ حضرت عیسی کو کافر اور دجال کہہ کر مغضوب علیہم بن گئے بعض مسلمان بھی ایسے ہی بنیں گے۔اسی لئے نیک لوگوں کو یہ دعا سکھلائی گئی کہ وہ منعم علیہم میں سے حصہ لیں اور مغضوب علیہم نہ بنیں۔سورۃ فاتحہ کا اعلیٰ مقصود مسیح موعود اور اس کی جماعت اور اسلامی یہودی اور اُن کی جماعت اور ضالین یعنی عیسائیوں کے زمانہ ترقی کی خبر ہے۔سوکس قدر خوشی کی بات