تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 316 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 316

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة غرض دُعا ہی ایک اعلیٰ ہتھیار ہے جو ہر مشکل سے نجات کی راہ ہے جہاں کوئی ہتھیار کارگر نہیں ہوسکتا وہاں دعا کے ذریعہ کامیابی ممکن اور یقینی ہوتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ دعا کی قبولیت کے تمام شرائط اور لوازم مہیا و میتر ہوں۔عمدہ دعا اهيتا القيرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ہے۔جس میں نہ کسی خاص مذہب کا نام ہے۔اور نہ کوئی خاص پہلو اختیار کیا گیا ہے۔انحام جلد ۱۲ نمبر ۲۴ مورخه ۱/۲ پریل ۱۹۰۸ صفحه ۴) یہ کیا دعا ہے کہ منہ سے تو اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کہتے رہے اور دل میں خیال رہا کہ فلاں سودا اس طرح کرنا ہے۔فلاں چیز رہ گئی ہے۔یہ کام یوں چاہئے تھا اگر اس طرح ہو جائے تو پھر یوں کریں گے۔یہ تو صرف عمر کا ضائع کرنا ہے۔جب تک انسان کتاب اللہ کو مقدم نہیں کرتا اور اسی کے مطابق عملدرآمد نہیں کرتا تب تک اس کی نمازیں محض وقت کا ضائع کرنا ہے۔(احکام جلد ۱۲ نمبر ۳مؤرخه ۱۰رجنوری ۱۹۰۸صفحه ۳) دُعا کے بارے میں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفاتحہ میں دُعا سکھلائی ہے۔یعنی انھی کا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم یعنی اس میں تین لحاظ رکھنے چاہئیں۔(۱) ایک یہ کہ تمام بنی نوع کو اس میں شریک رکھے۔(۲) تمام مسلمانوں کو (۳) تیسرے اُن حاضرین کو جو جماعت نماز میں داخل ہیں۔پس اس طرح کی نیت سے کل نوع انسان اس میں داخل ہوں گے اور یہی منشاء خدا تعالیٰ کا ہے۔کیونکہ اس سے پہلے اسی سورت میں اُس نے اپنا نام رب العالمین رکھا ہے جو عام ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے جس میں حیوانات بھی داخل ہیں۔پھر اپنا نام رحمان رکھا ہے۔اور یہ نام نوع انسان کی ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے۔کیونکہ یہ رحمت انسانوں سے خاص ہے۔اور پھر اپنا نام رحیم رکھا ہے اور یہ نام مومنوں کی ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے۔کیونکہ رحیم کا لفظ مومنوں سے خاص ہے اور پھر اپنا نام ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ رکھا ہے۔اور یہ نام جماعت موجودہ کی ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے۔کیونکہ یوم الدین وہ دن ہے جس میں خدا تعالیٰ کے سامنے جماعتیں حاضر ہوں گی۔سو اسی تفصیل کے لحاظ سے اهْدِنَا الفِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دُعا ہے۔پس اس قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دُعا میں تمام نوع انسانی کی ہمدردی داخل ہے۔اور اسلام کا اصول یہی ہے کہ سب کا خیر خواہ ہو۔الحکم جلد ۲ نمبر ۳۳ مؤرخه ۲۹/اکتوبر ۱۸۹۸ صفحه ۴) عادت اللہ اسی پر جاری ہے کہ جس کام کے لئے مصمم عزم کیا جاوے اُس کے انجام کے لئے طاقت مل جاتی ہے۔سو مصم عزم اور عہد واثق سے اعمال کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور نماز میں اس دُعا کو پڑھنے میں کہ اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ الخ بہت خضوع اور خشوع سے زور لگانا چاہئے اور بار بار پڑھنا چاہئے۔