تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 315 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 315

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۵ سورة الفاتحة س یہ چاہتا ہے کہ صحت و عافیت بھی رہے مال و دولت میں بھی ترقی ہو اور ہر طرح کے عیش وعشرت کے سامان اور مالی اور جانی آرام بھی ہوں کوئی ابتلا بھی نہ آوے اور پھر یہ کہ خدا بھی راضی ہو جاوے وہ ابلہ ہے وہ کبھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔جن لوگوں پر خدا راضی ہوا ہے ان کے ساتھ یہی معاملہ ہوا ہے کہ وہ طرح طرح کے امتحانوں میں ڈالے گئے اور مختلف مصائب اور شدائد سے ان کا سامنا ہوا۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۸ مؤرخہ ۲۴/اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۱۱) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی اے خدا کہ تو رب العالمین، رحمن ، رحیم اور خدا ، مالک یوم الدین ہے ہمیں وہ راہ دکھا جو ان لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرا بے انتہا فضل ہوا۔اور تیرے بڑے بڑے انعام اکرام ہوئے۔مومن کو چاہئے کہ ان چار صفات والے خدا کا صرف زبانی اقرار ہی نہ کرے بلکہ اپنی ایسی حالت بناوے جس سے معلوم ہو کہ وہ صرف خدا کو ہی رب جانتا ہے۔زید عمر کو نہیں جانتا۔اور اس بات پر یقین رکھے کہ در حقیقت خدا ہی ایسا ہے جو عملوں کی جزا سزا دیتا ہے اور پوشیدہ سے پوشیدہ اور نہاں در نہاں گناہوں کو جانتا ہے۔یادرکھو کہ صرف زبانی باتوں سے کچھ نہیں ہوتا جب تک عملی حالت درست نہ ہو۔جو شخص حقیقی طور پر خدا کو ہی اپنا رب اور مالک یوم الدین سمجھتا ہے۔ممکن ہی نہیں کہ وہ چوری، بدکاری، قمار بازی یا دیگر افعال شنیعہ کا مرتکب ہو سکے۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ سب چیزیں ہلاک کر دینے والی ہیں۔اور ان پر عمل درآمد کرنا خدا تعالیٰ کے حکم کی صریح نافرمانی ہے۔غرض انسان جب تک عملی طور پر ثابت نہ کر دیوے کہ وہ حقیقت میں خدا پر سچا اور پکا ایمان رکھتا ہے۔تب تک وہ فیوض اور برکات حاصل نہیں ہو سکتے۔جو مقتر بوں کو ملا کرتے ہیں۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ا مورخه ۲ جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۲- و الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲ مؤرخه ۶ جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۲) قرآن شریف پڑھ کر دیکھ لو اس میں کہیں بھی ایسا نہیں ملے گا کہ خدا اس شخص پر بھی راضی ہوتا ہے جو اس کی رضا مندی کی راہوں سے غافل اور لا پرواہی کرنے والا ہو۔خدا تعالیٰ نے اپنی رضامندی کی جو راہیں مقرر کر دی ہیں انہی کے اختیار کرنے سے وہ راضی ہوتا ہے۔صاف طور سے اس نے یہ دعا سکھا دی ہے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ دیکھو انسان انسان سے خوش ہو کر اُس کو انعامات عطا کرتا ہے۔تو کیا خدا اپنی رضا مندی کی راہوں پر چلنے والوں اور اُس کی تلاش کرنے والوں سے محبت نہیں کرے گا۔مگر استعداد بھی ہو اُس کے فیوض کے لینے کی۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۴ مؤرخه ۱/۲ پریل ۱۹۰۸ صفحه ۲)