تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 314 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 314

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۴ سورة الفاتحة جیسی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کی تھی تا کہ اس آخری زمانہ میں یہ جماعت قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور عظمت پر بطور گواہ ٹھہرے۔الحکم جلد 9 نمبر ۱۱ مورخه ۳۱ / مارچ ۱۹۰۵ء صفحه ۶،۵) جیسا ہمارے علماء کا عقیدہ ہے کہ اب الہام کا دروازہ بند ہو گیا ہے۔اگر یہ سچ ہوتا تو ایک عارف طالب تو زندہ ہی مر جاتا۔خدا بخیل نہیں ہے۔اس نے خود صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دُعا سکھائی ہے جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ ان نعمتوں کا دروازہ کھلا ہے۔(البدر جلد نمبر ۱۸ مورخه ۳ /اگست ۱۹۰۵ء صفحه ۲) یقین جانو کہاللہ تعالی اس وقت تک راضی نہیں ہوتا اور نہ کوئی شخص اس تک پہنچ سکتا ہے جب تک صراط مستقیم پر نہ چلے۔وہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی ذات صفات کو شناخت کرے۔اور ان راہوں اور ہدایتوں پر عمل درآمد کرے جو اس کی مرضی اور منشاء کے موافق ہیں۔جب یہ ضروری بات ہے تو انسان کو چاہئے کہ دین کو دنیا پر مقدم کرے۔البدر جلد نمبر ۲۲ مؤرخه ۳۱ /اگست ۱۹۰۵ ء صفحه ۲) ہر ایک چیز پر خدا کو اختیار کر لینا اور اس کے لئے سچی محبت اور بیچے جوش سے دنیا کی تمام تلخیوں کو اختیار کرنا بلکہ اپنے ہاتھ سے تلخیاں پیدا کر لینا یہ وہ مرتبہ ہے کہ بجز صدیقوں کے کسی کو حاصل نہیں ہوسکتا۔یہی وہ عبادت ہے جس کے ادا کرنے کے لئے انسان مامور ہے اور جو شخص یہ عبادت بجالاتا ہے تب تو اُس کے اس فعل پر خدا کی طرف سے بھی ایک فعل مترتب ہوتا ہے جس کا نام انعام ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے یعنی یہ دعا سکھلاتا ہے اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی اے ہمارے خدا ہمیں اپنی سیدھی راہ دکھلا اُن لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا ہے اور اپنی خاص عنایات سے مخصوص فرمایا ہے۔حضرت احدیت میں یہ قاعدہ ہے کہ جب خدمت مقبول ہو جاتی ہے تو اُس پر ضرور کوئی انعام مترتب ہوتا ہے چنانچہ خوارق اور نشان جن کی دوسرے لوگ نظیر پیش نہیں کر سکتے یہ بھی خدا تعالیٰ کے انعام ہیں جو خاص بندوں پر ہوتے ہیں۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۵٬۵۴) یا درکھو ایک پہلو پر جانے والے لوگ مشرک ہوتے ہیں۔آخر خدا کی طرف قدم اٹھانے اور حقیقی طور پر اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ والی دُعا مانگنے کے یہی معنے تو ہیں کہ خدا یا وہ راہ دکھا جس سے تو راضی ہو اور جس پر چل کر نبی کا میاب اور بامراد ہوئے آخر جب نبیوں والی راہ پر چلنے کے لئے دُعا کی جاوے گی تو پھر ابتلاؤں اور آزمائشوں کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے اور ثابت قدمی کے واسطے خدا سے مدد طلب کرتے رہنا چاہئے۔جو