تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 313
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۳ سورة الفاتحة جس کے پینے سے اس کا نفس بدیوں سے سرد ہو جاتا ہے جیسے کافور میں ایک خاصہ ہے کہ وہ زہریلی مواد کو جذب کرتا ہے ایسے ہی اس کے اندر جوز ہر گناہ اور بدی کی ہوتی ہے وہ اس شربت کا فوری سے جذب ہو جاتی ہے اور دوسرا شربت زنجیلی شربت ہے جس سے انسان کو نیکی کی قوت حاصل ہوتی ہے۔اس لئے قرآن شریف میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّايِّينَ کی دُعا تعلیم فرمائی ہے جس میں دونوں شربت اللہ تعالیٰ سے طلب کئے گئے ہیں۔البدر جلد ۴ نمبر ۲ مؤرخه ۱۰/جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۳) انسانی زندگی کا مقصد اور غرض صراط مستقیم پر چلنا اور اس کی طلب ہے۔جس کو اس سورۃ میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یا اللہ ہم کو سیدھی راہ دکھا ان لوگوں کی جن پر تیرا انعام ہوا۔یہ وہ دُعا ہے جو ہر وقت ہر نماز اور ہر رکعت میں مانگی جاتی ہے۔اس قدر اس کا تکرار ہی اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ہماری جماعت یا در کھے کہ یہ معمولی سی بات نہیں ہے اور صرف زبان سے طوطے کی طرح ان الفاظ کا رٹ دینا اصل مقصود نہیں ہے بلکہ یہ انسان کو انسان کامل بنانے کا ایک کارگر اور خطا نہ کرنے والا نسخہ ہے جسے ہر وقت نصب العین رکھنا چاہئے اور تعویذ کی طرح مد نظر رہے اس آیت میں چار قسم کے کمالات کے حاصل کرنے کی التجا ہے۔اگر یہ ان چار قسم کے کمالات کو حاصل کرے گا تو گویا دُعا مانگنے اور خلق انسانی کے حق کو ادا کریگا اور ان استعدادوں اور قومی کے بھی کام میں لانے کا حق ادا ہو جائے گا جو اس کو دی گئی ہیں۔۔۔۔۔میں یہ بھی تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ بہت سے لوگ ہیں جو اپنے تراشے ہوئے وظائف اور اوراد کے ذریعہ سے ان کمالات کو حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن میں تمہیں کہتا ہوں کہ جو طریق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار نہیں کیا وہ محض فضول ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر منعم علیہ کی راہ کا سا تجربہ کار اور کون ہو سکتا ہے جن پر نبوت کے بھی سارے کمالات ختم ہو گئے۔آپ نے جو راہ اختیار کیا ہے وہ بہت ہی صحیح اور اقرب ہے۔اس راہ کو چھوڑ کر اور ایجاد کر نا خواہ وہ بظاہر کتنا ہی خوش کرنے والا معلوم ہوتا ہو میری رائے میں ہلاکت ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھ پر ایسا ہی ظاہر کیا ہے۔۔۔۔۔غرض منعم علیہم لوگوں میں جو کمالات ہیں اور صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے ان کو حاصل کرنا ہر انسان کا اصل مقصد ہے اور ہماری جماعت کو خصوصیت سے اس طرف متوجہ ہونا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کے قائم کرنے سے یہی چاہا ہے کہ وہ ایسی جماعت تیار کرے