تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 312
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣١٢ سورة الفاتحة الحکم جلد ۸ نمبر۷ مؤرخہ ۱۰ / مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۷ ) خود دیتا ہے۔اگر اسی قدر مقصود ہوتا جو بعض لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ موٹی موٹی بدیوں سے پر ہیز کرنا ہی کمال ہے تو انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دُعا تعلیم نہ ہوتی جس کا انتہائی اور آخری مرتبہ اور مقام خدا تعالیٰ کے ساتھ مکالمہ اور مخاطبہ ہے۔انبیاء علیہم السلام کا اتنا ہی تو کمال نہ تھا کہ وہ چوری چکاری نہ کیا کرتے تھے بلکہ وہ خدا تعالیٰ کی محبت ، صدق ، وفا میں اپنا نظیر نہ رکھتے تھے۔پس اس دُعا کی تعلیم سے یہ سکھایا کہ نیکی اور انعام ایک الگ شیء ہے جب تک انسان اسے حاصل نہیں کرتا اس وقت تک وہ نیک اور صالح نہیں کہلا سکتا اور منعم علیہ کے زمرہ میں نہیں آتا۔اس سے آگے فرما یا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ اس مطلب کو قرآن شریف نے دوسرے مقام پر یوں فرمایا ہے کہ مومن کے نفس کی تکمیل دوشر بتوں کے پینے سے ہوتی ہے۔ایک شربت کا نام کا فوری ہے اور دوسرے کا نام زنجبیلی ہے۔کا فوری شربت تو یہ ہے کہ اس کے پینے سے نفس بالکل ٹھنڈا ہو جاوے اور بدیوں کے لئے کسی قسم کی حرارت اس میں محسوس نہ ہو۔جس طرح پر کافور میں یہ خاصہ ہوتا ہے کہ وہ زہریلے مواد کو دبا دیتا ہے اسی لئے اسے کافور کہتے ہیں۔اسی طرح پر یہ کا فوری شربت گناہ اور بدی کی زہر کو دبا دیتا ہے۔اور وہ مواد ر د یہ جو اُٹھ کر انسان کی روح کو ہلاک کرتے ہیں ان کو اُٹھنے نہیں دیتا بلکہ بے اثر کر دیتا ہے۔دوسرا شربت شربت زنجیلی ہے جس کے ذریعہ سے انسان میں نیکیوں کے لئے ایک قوت اور طاقت آتی ہے اور پھر حرارت پیدا ہوتی (ہے) پس اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم تو اصل مقصد اور غرض ہے یہ گویا زنجبیلی شربت اور غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضالین کا فوری شربت ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۳مؤرخه ۲۴/جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۲) جب تک کسی کے پاس حقیقی نیکیوں کا ذخیرہ نہیں ہے تب تک وہ مومن نہیں ہے اسی لئے خدا تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دُعا تعلیم فرمائی ہے کہ انسان چوری زنا وغیرہ جیسے موٹے موٹے بُرے کاموں کو ترک کرنا ہی نیکی نہ جان لے بلکہ صِرَاطَ الَّذِینَ اَنْعَمتَ عَلَيْهِمْ فرما کر بتلا دیا کہ نیکی اور انعام ایک الگ شے ہے جب تک اسے حاصل نہ کرے گا تب تک نیک اور صالح نہیں کہلائے گا۔دیکھو خدا تعالیٰ نے یہ دُعا نہیں سکھلائی کہ تو مجھے فاسقوں اور فاجروں میں داخل نہ کر اور اسی پر بس نہیں کیا بلکہ یہ سکھلایا کہ انعام والوں میں داخل کر۔اس کے آگے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ان آیات سے یہ مطلب ہے کہ مومن کے نفس کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جبکہ وہ دو شربت پیتا ہے ایک شربت کا نام تو کا فوری ہے کہ