تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 307
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة مذہب ہے کہ جس میں انسان ترقی کرتا ہوا فرشتوں سے مصافحہ جا کرتا ہے اور اگر یہ بات نہ تھی تو صِرَاط الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کیوں سکھایا ؟ اس میں صرف جسمانی اموال کی طلب نہیں کی گئی بلکہ روحانی انعام کی درخواست ہے۔پس اگر تم نے ہمیشہ اندھا ہی رہنا ہے تو پھر تم مانگتے کیا ہو۔یہ دعا فاتحہ ایسی جامع اور عجیب دُعا ہے کہ پہلے کبھی کسی نبی نے سکھلائی ہی نہیں۔پس اگر یہ نرے الفاظ ہی الفاظ ہیں اور اس کو خدا نے منظور نہیں کرنا تو ایسے الفاظ خدا نے ہمیں کیوں سکھلائے۔اگر تمہیں وہ مقام ملنا ہی نہیں تو ہم پانچ وقت کیوں ضائع کرتے ہیں۔خدا کی ذات میں بخل نہیں۔اور نہ انبیاء اس لئے آتے ہیں کہ اُن کی پوجا کی جاوے بلکہ اس لئے کہ لوگوں کو تعلیم دیں کہ ہماری راہ اختیار کرنے والے ہمارے ظل کے نیچے آجاویں گے۔(احکم جلد ۸ نمبر ۳۹،۳۸ مؤرخہ ۱۰ تا۱۷ارنومبر ۱۹۰۴ء صفحہ ۷ ) دُعا تب ہی جامع ہو سکتی ہے کہ وہ تمام منافع اور مفاد کو اپنے اندر رکھتی ہو اور تمام نقصانوں اور مغفرتوں سے بچاتی ہو۔پس اس دُعا میں تمام بہترین منافع جو ہو سکتے ہیں اور ممکن ہیں وہ اس دُعا میں مطلوب ہیں اور بڑی سے بڑی نقصان رساں چیز جو انسان کو بلاک کر دیتی ہے اُس سے بچنے کی دُعا ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۰ مورخه ۱۷ مارچ ۱۹۰۱ صفحه ۳) اور وہ دو گروہ جو ان لوگوں کے مقابل پر بیان فرمائے گئے ہیں وہ مغضوب علیہم اور ضالین ہیں جن سے محفوظ رہنے کے لئے خدا تعالیٰ سے اسی سورۃ فاتحہ میں دُعا مانگی گئی ہے۔اور یہ دُعا جس وقت اکٹھی پڑھی جاتی ہے یعنی اس طرح پر کہا جاتا ہے کہ اے خدا ہمیں منعم علیہم میں داخل کر اور مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ اور ضالین سے بچا تو اُس وقت صاف سمجھ آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے علم میں منعم علیہم میں سے ایک وہ فریق ہے جو مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ اور ضالین کا ہم عصر ہے اور جبکہ مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مراد اس سورۃ میں بالیقین وہ لوگ ہیں جو مسیح موعود سے انکار کرنے والے اور اس کی تکفیر اور تکذیب اور توہین کرنے والے ہیں تو بلا شبہ اُن کے مقابل پر منعم علیہم سے وہی لوگ اس جگہ مراد ر کھے گئے ہیں جو صدق دل سے مسیح موعود پر ایمان لانے والے اور اُس کی دل سے تعظیم کرنے والے اور اس کے انصار ہیں اور دُنیا کے سامنے اس کی گواہی دیتے ہیں۔(تحفہ گولر و بیه، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۲۹،۲۲۸) آيت اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ - یہ تمام آیتیں بتلا رہی ہیں کہ قیامت تک اختلاف رہے گا۔منعم علیہم بھی رہیں گے۔مغضوب علیہم