تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 301
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة اور سب کو سیدھی راہ پر لاوے۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۵۹ حاشیه ) انجیل میں ایک اور نقص یہ ہے کہ اس نے یہ تعلیم کسی جگہ نہیں دی کہ عبادت کرنے کے وقت اعلی طریق عبادت یہی ہے کہ اغراض نفسانیہ کو درمیان سے اٹھادیا جاوے بلکہ اگر کچھ سکھلایا تو صرف روٹی مانگنے کے لئے دُعا سکھلائی۔قرآن شریف نے تو ہمیں یہ دعا سکھلائی کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔یعنی ہمیں اس راہ پر قائم کر جو نبیوں اور صدیقوں کی اور عاشقانِ الہی کی راہ ہے۔مگر انجیل یہ سکھلاتی ہے کہ ہماری روزینہ کی روٹی آج ہمیں بخش۔ہم نے تمام انجیل پڑھ کر دیکھی اس میں اس اعلی تعلیم کا نام ونشان نہیں ہے۔( نور القرآن ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۴۳) یہ بھی یادر ہے کہ سورۃ فاتحہ کے عظیم الشان مقاصد میں سے یہ دُعا ہے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اور جس طرح انجیل کی دُعا میں روٹی مانگی گئی ہے اس دُعا میں خدا تعالیٰ سے وہ تمام نعمتیں مانگی گئی ہیں جو پہلے رسولوں اور نبیوں کو دی گئی تھیں۔یہ مقابلہ بھی قابل نظارہ ہے اور جس طرح حضرت مسیح کی دُعا قبول ہو کر عیسائیوں کو روٹی کا سامان بہت کچھ مل گیا ہے اسی طرح یہ قرآنی دعا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے قبول ہو کر اختیار و ابرار مسلمان بالخصوص ان کے کامل فرد انبیاء بنی اسرائیل کے وارث ٹھہرائے گئے اور دراصل مسیح موعود کا اس اُمت میں سے پیدا ہونا یہ بھی اسی دُعا کی قبولیت کا نتیجہ ہے کیونکہ گو شخفی طور پر بہت سے اختیار و ابرار نے انبیاء بنی اسرائیل کی مماثلت کا حصہ لیا ہے مگر اس اُمت کا مسیح موعود کھلے کھلے طور پر خدا کے حکم اور اذن سے اسرائیلی مسیح کے مقابل پر کھڑا کیا گیا ہے تا موسوی اور محمدی سلسلہ کی مماثلت سمجھ آ جائے۔کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۵۳،۵۲) سورۃ فاتحہ میں اس قدر حقائق و دقایق و معارف جمع ہیں کہ اگر اُن سب کو لکھا جائے تو وہ باتیں ایک دفتر میں بھی ختم نہیں ہوسکتیں۔اسی ایک حکیمانہ دعا کو دیکھئے کہ جو اس سورہ میں سکھائی گئی ہے یعنی اِهْدِنَا الصِّرَاط الْمُسْتَقِيمَ یہ دعا ایک ایسا مفہوم کی اپنے اندر رکھتی ہے جو تمام دین اور دنیا کے مقاصد کی یہی ایک کنجی ہے ہم کسی چیز کی حقیقت پر اطلاع نہیں پاسکتے اور نہ اُس کے فوائد سے منتفع ہو سکتے ہیں جب تک کہ ہمیں اس کے پانے کے لئے ایک مستقیم راہ نہ ملے دنیا کے جس قدر مشکل اور پیچیدہ امور ہیں خواہ وہ سلطنت اور وزارت کے ذمہ واریوں کے متعلق ہوں اور خواہ سپہ گری اور جنگ و جدال سے تعلق رکھتے ہوں اور خواہ طبعی اور ہیئت کے دقیق مسائل کے متعلق ہوں اور خواہ صناعت طب کے طریق تشخیص اور علاج کے متعلق اور خواہ تجارت