تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 292
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۲ سورة الفاتحة نتیجہ کو پیدا کرتا ہے کہ ایسے انسان کا انجام فنافی اللہ ہو اور خاکستر کی طرح یہ وجود ہوکر ( جو حجاب ہے ) سراسر عشق الہی میں روح غرق ہو جائے اس کی مثال وہ حالت ہے کہ جب انسان پر آسمان سے صاعقہ پڑتی ہے تو اس آگ کی کشش سے انسان کے بدن کی اندرونی آگ یکدفعہ باہر آ جاتی ہے تو اس کا نتیجہ جسمانی فنا ہوتا ہے پس دراصل یہ روحانی موت بھی اسی طرح دو قسم کی آگ کو چاہتی ہے۔ایک آسمانی آگ اور ایک اندرونی آگ اور دونوں کے ملنے سے وہ فنا پیدا ہو جاتی ہے جس کے بغیر سلوک تمام نہیں ہوسکتا۔یہی فتاوہ چیز ہے جس پر سالکوں کا سلوک ختم ہو جاتا ہے۔اور جو انسانی مجاہدات کی آخری حد ہے۔اسی فنا کے بعد فضل اور موجبت کے طور پر مرتبہ بقا کا انسان کو حاصل ہوتا ہے۔اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔صِراط الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص کو یہ مرتبہ ملا انعام کے طور پر ملا۔یعنی محض فضل سے نہ کسی عمل کا اجر۔اور یہ عشق الہی کا آخری نتیجہ ہے۔جس سے ہمیشہ کی زندگی حاصل ہوتی ہے اور موت سے نجات ہوتی ہے۔چشمه مسیحی، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۶۵،۳۶۴) نجات کے متعلق جو عقیدہ قرآن شریف سے مستنبط ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ نجات نہ تو صوم سے ہے نہ صلوۃ سے نہ زکوۃ اور صدقات سے بلکہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے جس کو دُعا حاصل کرتی ہے اس لئے اھدنا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دُعا سب سے اول تعلیم فرمائی ہے۔کیونکہ جب یہ دعا قبول ہو جاتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرتی ہے جس سے اعمال صالحہ کی توفیق ملتی ہے کیونکہ جب انسان کی دُعا جو بچے دل اور خلوص نیت سے ہو۔قبول ہوتی ہے تو پھر نیکی اور اُس کے شرائط ساتھ خود ہی مرتب ہو جاتے ہیں۔(الحکم جلدے نمبر ۳۰ مؤرخه ۱۷ راگست ۱۹۰۳ صفحه ۱۱،۱۰) قرآن شریف سے جو عقیدہ نجات کے بارے میں استنباط ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ نجات نہ تو صوم سے ہے نہ صلوۃ سے نہ زکوۃ اور نہ صدقات سے بلکہ محض دُعا اور خدا کے فضل سے ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے دُعا اهدنا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيم تعلیم فرمائی ہے کہ جب وہ قبول ہو کر خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرتی ہے اعمال صالحہ اس کے ساتھ شرائط ہیں مگر لوازم میں سے نہیں یعنی جب انسان کی دُعا قبول ہوتی ہے تو اُس کے ساتھ تمام شرائط خود ہی مرتب ہوتی ہیں ورنہ اگر اعمال پر نجات کا مدار رکھا جائے تو یہ بار یک شرک ہے اور اس سے ثابت ہوگا کہ انسان خود بخو دنجات پاسکتا ہے کیونکہ اعمال تو انسان کے اختیاری امور ہیں اور انسان خود بخو دا سے بجالاتے ہیں۔۔۔۔۔دُعا جب تمام شرائط کے ساتھ ہوتی ہے تو وہ فضل کو جذب کرتی ہے اور فضل کے بعد