تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 289

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۹ سورة الفاتحة دو قرآنی کے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ بھی اشارہ کرتا ہے۔یعنی جو پہلے نبیوں کو دیا گیا ہے ہم کو بھی عطا کر۔الحکم جلدے نمبر ۸ مؤرخه ۲۸ فروری ۱۹۰۳ صفحه ۴) نیکوں کے اور بدوں کے بروز ہوتے ہیں نیکوں کے بروز میں جو موعود ہے وہ ایک ہی ہے یعنی مسیح موعود ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ انيكا الطيراطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ سے نیکوں کا بروز اور ضَالِينَ سے عیسائیوں کا بروز اور مغضوب سے یہودیوں کا بروز مراد ہے اور یہ عالم بروزی صفت میں پیدا کیا گیا ہے جیسے پہلے نیک یا بد گزرے ہیں ان کے رنگ اور صفات کے لوگ اب بھی ہیں خدا تعالیٰ ان اخلاق اور صفات کو ضائع نہیں کرتا ان کے رنگ میں اور آ جاتے ہیں جب یہ امر ہے تو ہمیں اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ ابرار اور اخیار اپنے اپنے وقت پر ہوتے رہیں گے۔اور یہ سلسلہ قیامت تک چلا جاوے گا جب یہ سلسلہ ختم ہو جاوے گا تو دنیا کا بھی خاتمہ ہے لیکن وہ موعود جس کے سپر عظیم الشان کام ہے وہ ایک ہی ہے کیونکہ جس کا وہ بروز ہے یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہ بھی ایک ہی ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۰) خدا تعالیٰ نے تمام مسلمانوں کو سورہ فاتحہ میں یہ دعا سکھلائی ہے کہ وہ اس فریق کی راہ خدا تعالیٰ سے طلب کرتے رہیں جو منعم علیہم کا فریق ہے اور منعم علیہم کے کامل طور پر مصداق باعتبار کثرت کمیت اور صفائی کیفیت اور نعماء حضرت احدیت از روئے نص صریح قرآنی اور احادیث متواترہ حضرت مرسل یزدانی دو گروه ہیں۔ایک گروہ صحابہ اور دوسرا گروہ جماعت مسیح موعود کیونکہ یہ دونوں گروہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کے تربیت یافتہ ہیں کسی اپنے اجتہاد کے محتاج نہیں وجہ یہ کہ پہلے گروہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے جو خدا سے براہ راست ہدایت پا کر وہی ہدایت نبوت کی پاک توجہ کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے دل میں ڈالتے تھے اور ان کے لئے مربی بے واسطہ تھے۔اور دوسرے گروہ میں مسیح موعود ہے جو خدا سے الہام پاتا اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت سے فیض اٹھاتا ہے لہذا اس کی جماعت بھی اجتہاد خشک کی محتاج نہیں ہے۔(تحفہ گولز و یه ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۲۴) منعم علیہم لوگوں میں جو کمالات ہیں اور صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے ان کو حاصل کرنا ہر انسان کا اصل مقصد ہے اور ہماری جماعت کو خصوصیت سے اس طرف متوجہ ہونا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کے قائم کرنے سے یہی چاہا ہے کہ وہ ایسی جماعت تیار کرے جیسی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کی تھی تا کہ اس آخری زمانہ میں یہ جماعت قرآن شریف اور