تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 280 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 280

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۰ سورة الفاتحة (لیکچرسیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۲۷) نعمتیں پاؤ۔بجز قرآن کس کتاب نے اپنی ابتدا میں ہی اپنے پڑھنے والوں کو یہ دعا سکھلائی اور یہ امید دی کہ اهدنا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی ہمیں اپنی ان نعمتوں کی راہ دکھلا جو پہلوں کو دکھلائی گئی۔جو نبی اور رسول اور صدیق اور شہید اور صالح تھے پس اپنی ہمتیں بلند کر لو اور قرآن کی دعوت کو رڈ مت کرو کہ وہ تمہیں وہ نعمتیں دینا چاہتا ہے جو پہلوں کو دی تھیں۔کیا اُس نے بنی اسرائیل کا ملک اور بنی اسرائیل کا بیت مقدس تمہیں عطا نہیں کیا جو آج تک تمہارے قبضہ میں ہے۔پس اے ست اعتقاد واور کمزور ہمتو! کیا تمہیں یہ خیال ہے کہ تمہارے خدا نے جسمانی طور پر تو بنی اسرائیل کے تمام املاک کا تمہیں قائم مقام کر دیا مگر روحانی طور پر تمہیں قائم مقام نہ کر سکا بلکہ خدا کا تمہاری نسبت اِن سے زیادہ فیض رسانی کا ارادہ ہے خدا نے اُن کے روحانی جسمانی متاع و مال کا تمہیں وارث بنایا مگر تمہارا وارث کوئی دوسرا نہ ہوگا جب تک کہ قیامت آ جاوے۔خدا تمہیں نعمت وحی اور الہام اور مکالمات اور مخاطبات الہیہ سے ہرگز محروم نہیں رکھے گا وہ تم پر وہ سب نعمتیں پوری کرے گا جو پہلوں کو دی گئیں۔۔۔۔سوتم صدق اور راستی اور تقویٰ اور محبت ذاتیہ الہیہ میں ترقی کرو اور اپنا کام یہی سمجھو جب تک زندگی ہے۔پھر خدا تم میں سے جس کی نسبت چاہے گا اس کو اپنے مکالمہ مخاطبہ سے بھی مشرف کرے گا۔کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۸،۲۷) جب تک انسان ان دونوں صفات سے متصف نہیں ہوتا یعنی بدیاں چھوڑ کر نیکیاں حاصل نہیں کرتا وہ اس وقت تک مومن نہیں کہلا سکتا مومن کامل ہی کی تعریف میں تو اَنْعَت عَلَيْهِمْ فرمایا گیا ہے۔اب غور کرو کہ کیا اتنا ہی انعام تھا کہ وہ چوری چکاری رہزنی نہیں کرتے تھے یا اس سے کچھ بڑھ کر مراد ہے؟ نہیں انعمت عَلَيْهِمُ میں تو وہ اعلیٰ درجہ کے انعامات رکھے گئے ہیں جو مخاطبہ اور مکالمہ الہیہ کہلاتے ہیں۔- الحکم جلد ۹ نمبر ۲ مؤرخه ۱۷/جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۳) اللہ تعالیٰ کا انتقال نبوت سے یہی منشاء تھا کہ وہ اپنا فضل و کمال دکھانا چاہتا تھا جو اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا تھا۔اسی کی طرف اشارہ ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں۔یعنی اے اللہ ہم پر وہ انعام و اکرام کر جو پہلے نبیوں اور صدیقوں ، شہیدوں اور صالحین پر تو نے کئے ہیں ہم پر بھی کر۔اگر خدا تعالیٰ یہ انعام و اکرام کر ہی نہیں سکتا تھا اور ان کا دروازہ بند ہو چکا تھا تو پھر اس دعا کی تعلیم کی کیا ضرورت تھی؟ اسرائیلیوں پر تو یہ دروازہ بند ہو چکا تھا اگر یہاں بھی بند ہو گیا تو پھر کیا فائدہ ہوا؟ اور کس بات