تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 273
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۳ سورة الفاتحة تائید سماوی اور قبولیت اور معرفتِ تامہ کاملہ اور وحی اور کشف کا انعام ہے اور خدا تعالیٰ نے اس اُمت کو اس انعام کے مانگنے کے لئے تبھی حکم فرمایا کہ اول اس انعام کے عطا کرنے کا ارادہ بھی کر لیا۔پس اس آیت سے بھی کھلے کھلے طور پر یہی ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ اس اُمت کو خلقی طور پر تمام انبیاء کا وارث ٹھہراتا ہے تا انبیاء کا وجود خلقی طور پر ہمیشہ باقی رہے اور دنیا ان کے وجود سے کبھی خالی نہ ہو اور نہ صرف دُعا کے لئے حکم کیا بلکہ ایک آیت میں وعدہ بھی فرمایا ہے اور وہ یہ ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ( العنكبوت:٧٠) یعنی جو لوگ ہماری راہ میں جو صراط مستقیم ہے مجاہدہ کریں گے تو ہم ان کو اپنی راہیں بتلا دیں گے اور ظاہر ہے ط کہ خدا تعالیٰ کی راہیں وہی ہیں جو انبیاء کو دکھلائی گئیں تھیں۔شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۵۱، ۳۵۲) کیا تم کہہ سکتے ہو کہ آفتاب وحی الہی اگر چہ پہلے زمانوں میں یقینی رنگ میں طلوع کرتا رہا ہے مگر اب وہ صفائی اس کو نصیب نہیں۔گویا یقینی معرفت تک پہنچنے کا کوئی سامان آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گیا ہے اور گویا خدا کی سلطنت اور حکومت اور فیض رسانی کچھ تھوڑی مدت تک رہ کر ختم ہو چکی ہے لیکن خدا کا کلام اس کے برخلاف گواہی دیتا ہے کیونکہ وہ یہ دعا سکھلاتا ہے کہ اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اس دُعا میں اُس انعام کی اُمید دلائی گئی ہے جو پہلے نبیوں اور رسولوں کو دیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ اُن تمام انعامات میں سے بزرگ تر انعام وحی یقینی کا انعام ہے کیونکہ گفتار الہی قائمقام دیدار الہی ہے کیونکہ اسی سے پتہ لگتا ہے کہ خدا موجود ہے۔پس اگر کسی کو اس اُمت میں سے وحی یقینی نصیب ہی نہیں اور وہ اس بات پر جرات ہی نہیں کر سکتا کہ اپنی وحی کو قطعی طور پر مثل انبیاء علیہم السلام کے یقینی سمجھے اور نہ اس کی ایسی وحی ہو کہ انبیاء کی طرح اس کے ترک متابعت اور ترک عمل پر یقینی طور پر دنیا کا ضرر متصور ہو سکے تو ایسی دعا سکھلانا محض دھوکا ہو گا۔کیونکہ اگر خدا کو یہ منظور ہی نہیں کہ بموجب دُعا اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ انْعَمتَ عَلَيْهِمْ انبیاء علیہم السلام کے انعامات میں اس اُمت کو بھی شریک کرے تو اس نے کیوں یہ دُعا سکھلائی اور ایک ناشدنی امر کے لئے دُعا کرنے کی ترغیب کیوں دی ؟ پس اگر یہ دعا سکھلانا یقین اور معرفت کا انعام دینے کی نیت سے نہیں بلکہ محض لفظوں سے خوش کرنا ہے پس اسی سے فیصلہ ہو گیا کہ یہ اُمت اپنے نصیبوں میں سب اُمتوں سے گری ہوئی ہے اور خدا تعالیٰ کی مرضی نہیں ہے کہ اس امت کو یقینی چشمہ کا پانی پلا کر نجات دے بلکہ وہ ان کو شکوک اور شبہات کے ورطہ میں چھوڑ کر ہلاک کرنا چاہتا ہے لیکن