تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 270 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 270

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۰ سورة الفاتحة مانگتے ہیں اور اس طرح پر زمین پر خدا تعالیٰ کی تقدیس چاہتے ہیں تاہماری زندگی انکار اور شک اور غفلت کی زندگی ہو کر زمین کو پلید نہ کرے اور ہر ایک شخص خدا تعالیٰ کی تقدیس تبھی کر سکتا ہے کہ جب وہ یہ چاروں قسم کے نشان خدا تعالیٰ سے مانگتا ر ہے۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۱۶،۵۱۵) غرض منعم علیہم لوگوں میں جو کمالات ہیں اور صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے ان کو حاصل کرنا ہر انسان کا اصل مقصد ہے اور ہماری جماعت کو خصوصیت سے اس طرف متوجہ ہونا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کے قائم کرنے سے یہی چاہا ہے کہ وہ ایسی جماعت تیار کرے جیسی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کی تھی تا کہ اس آخری زمانہ میں یہ جماعت قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور عظمت پر بطور گواہ ٹھہرے۔ان کمالات میں سے جو منعم علیہم کو دیئے جاتے ہیں پہلا کمال نبوت کا کمال ہے جو بہت ہی اعلیٰ مقام پر واقع ہے ہمیں افسوس ہے کہ وہ الفاظ نہیں ملتے جن میں اس کمال کی حقیقت بیان کر سکیں۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس قدر کوئی چیز اعلیٰ ہو اس کے بیان کرنے کے واسطے اسی قدر الفاظ کمزور ہوتے ہیں اور نبوت تو ایسا مقام ہے کہ انسان کے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی درجہ اور مرتبہ نہیں ہے تو پھر یہ کیونکر بیان ہو سکے۔(الحکم جلد ۹ نمبر۱۱ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۵ صفحه ۶) خدا تعالیٰ کے ساتھ محبت کرنے والا اور اُس کے عشق میں گم شدہ قوم نبیوں کی ان جھوٹے اور فانی عاشقوں کے عشق سے کہیں بڑھ کر اپنے اندر جوش رکھتے ہیں۔کیونکہ وہ خدا وہ ہے جو جھکنے والوں کی طرف جھکتا ہے یہاں تک کہ اس سے زیادہ توجہ کرتا ہے خدا کی طرف آنے والا اگر معمولی چال سے چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دوڑ کر آتا ہے۔پس ایسے خدا کی طرف جس کی توجہ ہو جاوے اور وہ اس کی محبت میں کھویا جاوے وہ محبت اور عشق الہی کی آگ ان امانی اور نفسانی خیالات کو جلا دیتی ہے پھر ان کے اندر روح ناطق ہو جاتی ہے اور پاک نطق جو ادھر سے شروع ہوتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا نطق ہوتا ہے دوسرے رنگ میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ دُعا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو جواب دیتا ہے۔پس یہ ایک کمال نبوت ہے اور انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں رکھا گیا ہے۔اس لئے جب انسان اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دُعا مانگے تو اس کے ساتھ ہی یہ امر پیش نظر رہے کہ اس کمال نبوت کو حاصل کرے۔الحکم جلد 4 نمبر ۱۳ مؤرخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۵ صفحه ۵) دوسرا کمال العمتَ عَلَيْهِمُ میں صدیقوں کا کمال ہے۔اس کمال کے حاصل ہونے پر قرآن شریف