تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 269 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 269

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۹ سورة الفاتحة يُخْلِفَ اللهُ مَوَاعِيْدَةَ بَعْدَ تَوْكِيْدِهَا | ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ پکے وعدے کرنے کے بعد ان کی خلاف ورزی کرے اور ہمیں نامرادوں میں سے کر دے۔وَيَجْعَلنَا مِنَ الْمُخَيَّبِينَ - أَنْتَ تَعْلَمُ يَا أَخِي أَنَّ سَرَاةَ الْمُنْعَمِيْنَ اے بھائی تمہیں معلوم ہے کہ انعام یافتہ لوگوں کے عَلَيْهِمْ هُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالرُّسُلُ وَقَدْ بَشَرکا سرخیل انبیاء اور رسول ہیں اور ہمیں بھی اللہ تعالیٰ نے اللهُ بِعَطاء هُدَاهُمْ وَبَصِيرَ مُ الْكَامِلَةِ انہیں کی ہدایت اور انہیں کی کامل بصیرت دیئے جانے التي لا تَحْصُلُ إِلَّا بَعْدَ مُعالَمَةِ الله تعالی کی بشارت دی ہے جو اللہ تعالیٰ سے مکالمہ ومخاطبہ پانے یا رُؤْيَةِ آيَاتِهِ - عَفَا اللهُ عَنْكَ كَيْفَ اس کے نشانات کو دیکھنے کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ زَعَمْتَ أَنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ مَحْرُومُوْنَ مِن تجھے معاف کرے ! تو نے یہ کیسے خیال کر لیا کہ اولیاء اللہ ممُكالَمَةِ اللهِ وَ مُخَاطَبَاتِهِ وَ لَيْسُوا مِنَ اللہ تعالیٰ کے مکالمہ و مخاطبہ سے محروم ہیں اور اُن لوگوں میں شامل نہیں جن سے اللہ تعالیٰ ہمکلام ہوتا ہے؟ الْمُكَّلَّمين ( ترجمه از مرتب) (تحفة بغداد، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۱۶،۱۵) ہم نماز میں یہ دعا کرتے ہیں کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اِس سے یہی مطلب ہے کہ خدا سے ہم اپنے ترقی ایمان اور بنی نوع کی بھلائی کے لئے چار قسم کے نشان چار کمال کے رنگ میں چاہتے ہیں۔نبیوں کا کمال۔صدیقوں کا کمال۔شہیدوں کا کمال۔صلحاء کا کمال۔سونبی کا خاص کمال یہ ہے کہ خدا سے ایسا علم غیب پاوے جو بطور نشان کے ہو۔اور صدیق کا کمال یہ ہے کہ صدق کے خزانہ پر ایسے کامل طور پر قبضہ کرے یعنی ایسے اکمل طور پر کتاب اللہ کی سچائیاں اُس کو معلوم ہو جائیں کہ وہ بوجہ خارق عادت ہونے کے نشان کی صورت پر ہوں۔اور اُس صدیق کے صدق پر گواہی دیں اور شہید کا کمال یہ ہے کہ مصیبتوں اور دکھوں اور ابتلاؤں کے وقت میں ایسی قوت ایمانی اور قوتِ اخلاقی اور ثابت قدمی دکھلاوے کہ جو خارق عادت ہونے کی وجہ سے بطور نشان کے ہو جائے اور مرد صالح کا کمال یہ ہے کہ ایسا ہر ایک قسم کے فساد سے دُور ہو جائے اور مجسم صلاح بن جائے کہ وہ کامل صلاحیت اس کی خارق عادت ہونے کی وجہ سے بطور نشان مانی جائے۔سو یہ چاروں قسم کے کمال جو ہم پانچ وقت خدا تعالیٰ سے نماز میں مانگتے ہیں یہ دوسرے لفظوں میں ہم خدا تعالیٰ سے آسمانی نشان طلب کرتے ہیں اور جس میں یہ طلب نہیں اُس میں ایمان بھی نہیں۔ہماری نماز کی حقیقت یہی طلب ہے جو ہم چار رنگوں میں پنج وقت خدا تعالیٰ سے چار نشان