تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 268
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۸ سورة الفاتحة اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی تھی کہ تم پنج وقت نمازوں میں یہ دعا پڑھا کرو کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ نے اے ہمارے خدا اپنے منعم علیہم بندوں کی ہمیں راہ بتا وہ کون ہیں۔نبی اور صدیق اور شہید اور صلحاء۔اس دُعا کا خلاصہ مطلب یہی تھا کہ ان چاروں گروہوں میں سے جس کا زمانہ تم پاؤ اس کے سایہ صحبت میں آجاؤ اور اس سے فیض حاصل کرو۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۱۲ ) قَالَ اللهُ جَلّ شَأْنه "فلةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ الله جل شانہ نے فرمایا ہے۔ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ * وَحَثَّ عِبَادَهُ عَلَى وَثُلَةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ اور اپنے بندوں کو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ دُعَاءِ اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دعا کرنے کی الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ فَمَا مَعْنَى الدُّعَاءِ ترغیب دی ہے۔اگر ہم نے محروم ہی رہنا تھا تو دُعا لَوْ كُنَّا مِنَ الْمَحْرُومِينَ وَأَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ سکھانے کے کیا معنی؟ اور تمہیں معلوم ہے کہ انعام یافتہ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ أَوَّلًا هُمُ لوگوں میں سے سب سے پہلے نبی اور رسول ہی ہیں اور الأَنبِيَاء وَالرُّسُلُ وَمَا كَانَ الْإِنْعَامُ مِن قِسْمِ دِرْهَمٍ وَدِينَارٍ بَلْ مِنْ قِسْمِ عُلُوْمٍ وَمَعَارِفَ وَنُزُولِ بَرَكَاتٍ وَأَنْوَارٍ كَمَا نزولِ برکات و انوار کی قسم کا ہے جیسا کہ عارف لوگوں کے نزدیک یہ بات طے شدہ ہے۔یہ انعام درہم و دینار کی قسم کا نہیں بلکہ علوم و معارف اور تَقَرَّرَ عِنْدَ الْعَارِفِينَ وَ إِذَا أُمِرْنَا بِهذهِ الدُّعَاءِ فِي كُل اور جب ہمیں ہر نماز میں یہ دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو صَلَاةٍ فَمَا أَمَرَنَا رَبُّنَا إِلَّا لِيُسْتَجَابَ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم محض اس لئے دیا ہے کہ دُعَاؤُنَا وَنُعْطَى مَا أُعْطِيَ مِنَ الْإِنْعَامَاتِ ہماری دعا قبول کی جائے اور ہمیں بھی وہی انعامات دیئے لِلْمُرْسَلِينَ۔وَقَدْ بَشَرَنَا عَزَّ اسْمُهُ بِعَطاء جائیں جو انعامات رسولوں کو عطا کئے گئے تھے اور اللہ عز ائمہ إِنْعَامَاتٍ أَنْعَمَ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ وَالرُّسُلِ نے ہمیں ان انعامات کے دیئے جانے کی بشارت دی ہے جو مِن قَبْلِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ وَارِثِينَ اُس نے ہم سے پہلے انبیاء اور رسولوں کو دیئے تھے اور ہمیں فَكَيْفَ تَكْفُرُ بِالهِ الْإِنْعَامَاتِ ان کا وارث ٹھہرایا ہے۔پس ہم کس طرح ان انعامات کا انکار وَتَكُونُ كَقَوْمٍ عَمِيْنَ وَكَيْفَ يُمْكِنُ أَنْ کریں اور اندھے لوگوں کی طرح ہو جائیں۔اور یہ کیسے الواقعة : ۴۱،۴۰) ترجمہ۔(اصحاب الیمین) یہ گروہ شروع میں ایمان لانے والے لوگوں میں سے بھی بکثرت ہوگا اور آخر میں ایمان لانے والے لوگوں میں سے بھی بکثرت ہوگا۔