تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 6 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 6

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة الْمَثَانِي بِمَا أَنَّهَا مُسْتَغْنَاةٌ مِنْ سَائِرِ | بخشش پر مشتمل ہے۔ بعض علماء کے نزدیک اس کا نام السبع الْكُتُبِ الْإِلَهِيَّةِ وَلَا يُوجَدُ مِثْلُهَا فِي المثانی اس لئے ہے کہ یہ سورۃ تمام کتبِ الہیہ میں امتیازی التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الصُّحُفِ شان رکھتی ہے اور اس کی مانند کوئی سورۃ تو رات یا ان یا انجیل یا النَّبَوِيَّةِ وَقِيلَ أَنَّهَا سُمِيَتْ مَثَانِي دوسرے صحفِ انبیاء میں نہیں پائی جاتی اور بعض کا خیال ہے لأَنَّهَا سَبْعُ آيَاتٍ مِنَ اللهِ الْكَرِيمِ کہ اس کا نام مثانی اس لئے ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ایسی سات وَتَعْدِلُ قِرَاتُ كُلِّ آيَةٍ مِنْهَا قِرَاءَةَ آیات پر مشتمل ہے کہ ان میں سے ہر آیت کی قرآت قرآن سُبْعِ مِنَ الْقُرْآنِ الْعَظِيمِ وَقِيلَ عظیم کے ساتویں حصّہ کی قرآت کے برابر ہے اور یہ بھی کہا سُمِيتُ سَبْعًا إِشَارَةً إِلَى الْأَبْوَابِ گیا ہے کہ اس کا نام السبع المثانی اس بناء پر پر رکھا رکھ گیا ہے السَّبْعَةِ مِنَ الشَّيْرَانِ وَلِكُلِّ مِنْهَا کہ اس میں جہنم کے سات دروازوں کی طرف اشارہ ہے جُزْءٌ مَقْسُومٌ يَدْفَعُ شُوَاظَهَا بِإِذْنِ الله اور ان میں سے ہر ایک دروازہ کے لئے اس سورۃ کا ایک الرَّحْمَانِ فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَمُر سَالِمًا مِنْ حِصّہ مقرر ہے جو خدائے رحمان کے اذن سے جہنم کے سَبْع أَبْوَابِ السَّعِيرِ فَعَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ شعلوں کو دُور کرتا ہے۔ پس جو شخص جہنم کے ان سات هَذِهِ السَّبْعَ وَيَسْتَأْنِسَ بِهَا وَ يَطْلُبَ دروازوں سے محفوظ گزرنا چاہتا ہے اسے لازم ہے کہ وہ اس الصَّبْرَ عَلَيْهَا مِنَ اللهِ الْقَدِيرِ وَكُلُّ ما سورة کی ساتوں آیات کے حصار میں داخل ہو اور ان سے يُدْخِلُ فِي جَهَنَّمَ مِنَ الْأَخْلَاقِ دلی لگاؤ رکھے اور ان پر عمل کرنے کے لئے خدائے قدیر سے وَالْأَعْمَالِ وَالْعَقَائِدِ فَهِيَ سَبْع استقلال طلب کرے اور تمام اخلاق ، اعمال اور عقائد جو مُوْبِقَاتٌ مِنْ حَيْثُ الْأُصُولِ وَهَذِهِ انسان کو جہنم میں داخل کرتے ہیں وہ اصولی طور پر سات سَبْعٌ لِدَفْعِ هَذِهِ الشَّدَائِدِ وَلَهَا أَسْمَاءُ مہلک امور ہیں اور سورت فاتحہ کی یہ سات آیات ایسی ہیں أُخْرَى فِي الْأَخْبَارِ وَ كَفَاكَ هَذَا فَإِنَّهُ جوان مہلکات کی شدائد کو دفع کرتی ہیں ۔احادیث میں اس خَزِينَةُ الْأَسْرَارِ وَمَعَ ذَالِكَ حَصْرُ هذا سورۃ کے اور بھی کئی نام مذکور ہیں لیکن تیرے لئے اسی قدر التَّعْدَادِ إِشَارَةُ إِلى سَنَوَاتِ الْمَبْدَاءِ وَ بیان کافی ہے کہ یہ الہی اسرار کا خزانہ ہے۔ علاوہ ازیں اس الْمَعَادِ أَعْنِي أَنَّ آيَاتِهَا السَّبْعَ إِيْمَاء إلى سورت کی آیات کا سات کی تعداد میں منحصر ہونا مبدء و معاد عُمُرِ الدُّنْيَا فَإِنَّهَا سَبْعَةُ آلَافٍ کے زمانہ کی طرف اشارہ ہے میری مراد یہ ہے کہ اس کی