تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 2
سورة الفاتحة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الصَّانِعِ وَ ضُرُورَةِ النُّبُوَّةِ وَالْخِلَافَة في ضرورت نبوت اور مومن بندوں میں سلسلہ خلافت کے الْعِبَادِ وَ مِنْ أَعْظَمِ الْأَخْبَارِ وَ أَكْبَرِهَا قیام پر استدلال۔اور اس سورۃ کی سب سے بڑی اور اہم أَنَّهَا تُبَيِّرُ بِزَمَانِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ و خبر یہ ہے کہ یہ سورۃ مسیح موعود اور مہدی معہود کے زمانہ کی أَيَّامِ الْمَهْدِي الْمَعْهُوْدِ وَسَنَذْكُرُهُ في بشارت دیتی ہے اور اسے ہم خدائے ودود کی دی ہوئی مَقَامِه بِتَوْفِيقِ اللهِ الْوَدُودِ وَمِن توفیق سے اس کے محل پر بیان کریں گے۔اسی طرح اس أَخْبَارِهَا أَنَّهَا تُبَيِّرُ بِحُمُرِ الدُّنْيَا سورۃ میں بیان شدہ خبروں میں سے ایک خبر یہ بھی ہے کہ یہ الدنيَّةِ وَسَنَكْتُبُه بقوة من الخطرة سورۃ اس دنیا کی عمر بتاتی ہے اور ہم عنقریب اسے بھی اللہ کی الْأَحَدِيَّةِ۔وَهَذِهِ هِيَ الْفَاتِحَةُ الَّتِي أَخْبَرَ دی ہوئی قوت سے لکھیں گے۔یہ وہی سورۃ فاتحہ ہے جس کی بِهَا نَبِى مِنَ الْأَنْبِيَاءِ۔وَقَالَ رَأَيْتُ مَلَكًا خبر خدا تعالیٰ کے انبیاء میں سے ایک نبی نے دی۔اس نبی قَوِيًّا نَازِلًا مِّنَ السَّمَاءِ وَ فِي يَدِهِ الْفَاتِحَةُ نے کہا کہ میں نے ایک قومی فرشتہ دیکھا جو آسمان سے اترا، عَلى صُورَةِ الْكِتَابِ الصَّغِيرِ فَوَقَعَ اس کے ہاتھ میں سورۃ فاتحہ ایک چھوٹی سی کتاب کی شکل رجلُهُ الْيُمْنى عَلَى الْبَحْرِ وَالْيُسْرَى عَلَی میں تھی اور خدائے قادر کے حکم سے اس کا دایاں پاؤں التي يحكم الرّبِ الْقَدِيرِ وَصَرَخَ سمندر پر اور بایاں پاؤں خشکی پر پڑا اور وہ شیر کے غرانے الْبَرِ بِحُكْمِ بِصَوْتٍ عَظِيمٍ كَمَا يَزارُ الطير عام و کی مانند بلند آواز میں پکارا، اس کی آواز سے سات گرجیں ظَهَرَتِ الرُّعُوْدُ السَّبْعَةُ بِصَوْتِهِ وَكُلٌّ پیدا ہوئیں جن میں سے ہر ایک میں ایک مخصوص کلام مِنْهَا وُجِدَ فِيْهِ الْكَلَامُ۔وَقِيلَ الحيم (جملہ ) سنائی دیا اور کہا گیا کہ ان گرجوں میں سے پیدا عَلى مَا تَكَلَّمَتْ بِهِ الرُّعُودُ وَلَا تَكْتُبُ ہونے والے کلمات کو سر بمہر کر دے اور انہیں مت لکھے۔كَذَالِك قَالَ الرَّبُ الْوَدُوْدُ۔وَالْمَلک خدائے مہربان نے ایسا ہی فرمایا ہے اور نازل ہونے النَّازِلُ أَقْسَمَ بِالْحَتى الَّذِي أَضَاءَ نُورُهُ والے فرشتہ نے اس زندہ خدا کی قسم کھا کر جس کے نور وَجْهَ الْبِحَارِ وَ الْبُلْدَانِ أَنْ لَّا يَكُونَ نے سمندروں اور آبادیوں کو روشن کیا ہے کہا کہ اس زَمَانٌ بَعْدَ ذَالِكَ الزَّمَانِ بِهَذَا الشَّأْنِ ( مسیح موعود ) کے زمانہ کے بعد اس شان ومرتبہ کا زمانہ وَقَدِ اتَّفَقَ الْمُفَثِرُونَ أَنَّ هَذَا الْخَبَرَ نہ آئے گا۔اور مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ يَتَعَلَّقُ بِزَمَانِ الْمَسِيحَ الْمَوْعُودِ پیش گوئی مسیح موعود کے زمانہ سے متعلق ہے۔سواب وہ الرَّبَّانِي فَقَدْ جَاءَ الزَّمَانُ وَ ظَهَرَتِ زمانہ آ گیا ہے اور سورۃ فاتحہ کی سات آیات سے وہ سات