تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 218 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 218

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۸ سورة الفاتحة 66 66 وو ,, ,, ،، 66 السَّالِكِينَ۔فَأَمَرَ أَنْ يَقُولَ النَّاسُ إِيَّاكَ | دیا کہ لوگ اِيَّاكَ نَعْبُدُ کہا کریں تا وہ ریا کی بیماری سے نَعْبُدُ لِيَسْتَخْلِصُوا مِنْ مَرَضِ الرِّيَاءِ نجات پائیں اور اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہنے کا حکم دیا تا وہ کبر وَأَمَرَ أَنْ يَقُولُوا إِيَاكَ نَسْتَعِينُ“ اور غرور سے بچ جائیں پھر اس نے اهْدِنَا کہنے کا حکم دیا تا لِيَسْتَخْلِصُوا مِنْ مَّرَضِ الكبر والخيلاء وہ گمراہیوں اور خواہشات نفسانی سے چھٹکارا پائیں۔پس وَأَمَرَ أَنْ يَقُولُوا اهْدِنَا لِيَسْتَخْلِصُوا اس کا قول إِيَّاكَ نَعْبُدُ خلوص اور عبودیت قائمہ کے مِنَ الضَّلالَاتِ وَالْأَهْوَاءِ فَقَوْلُهُ إِيَّاكَ حصول کی ترغیب ہے۔اور اس کا کلام إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ نَعْبُدُ حَقٌّ عَلى تَحْصِيلِ الْخُلُوص قوت ، ثابت قدمی، استقامت کے طلب کرنے کی طرف وَالْعُبُودِيَّةِ الثَّامَةِ وَقَوْلُهُ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ “ اشارہ کرتا ہے۔اور اس کا کلام اهْدِنَا الصِّرَاط اشارہ إشَارَةٌ إلى طَلَبِ الْقُوَّةِ وَالثَّبَاتِ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم اور ہدایت طلب کی وَالْإِسْتِقَامَةِ وَقَوْلُهُ اهْدِنَا الخراط جائے جو وہ از راہ مہربانی بطور اکرام انسان کو عطا کرتا إشَارَةٌ إلى طَلَب عِلْمٍ مِنْ عِنْدِهِ وَهِدَايَةٍ ہے۔پس ان آیات کا ماحصل یہ ہے کہ خدا کا راہ سلوک من لَّدُنْهُ لطفا مِنْهُ عَلى وَجْهِ الْكَرَامَةِ اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی وہ نجات کا وسیلہ فَحَاصِلُ الآيَاتِ أَنْ أَمْرَ السُّلُوكِ لا يُتَهُمُ بن سکتا ہے جب تک انتہائی اخلاص، انتہائی کوشش اور أَبَدًا وَلَا يَكُونُ وَسِيْلَةٌ لِلتَّجَاةِ إِلَّا بَعْدَ ہدایات کے سمجھنے کی پوری اہلیت حاصل نہ ہو جائے بلکہ كَمَالِ الْإِخْلَاصِ وَ كَمَالِ الْجَهْدِ وَ كَمَالِ جب تک کسی خادم میں یہ صفات نہ پائی جائیں وہ فَهْمِ الْهِدَايَاتِ بَلْ كُلُّ خَادِمٍ لَّا يَكُونُ در حقیقت خدمات کے قابل نہیں ہوتا۔مثلاً اگر کوئی خادم صَالِحًا لِلْخِدَمَاتِ إِلَّا بَعْدَ تَحقق هذهِ مخلص بھی ہے اور دیانت، نیک نیتی اور پاک دامنی کی الصِّفَاتِ۔مَقَلًا إِن كَانَ خَادِمُ مُخلِصًا و صفات سے متصف بھی ہے لیکن وہ ست بے ہمت اور مَوْصُوْفًا بِأَوْصَافِ الْأَمَانَةِ وَ الْخُلُوص و ( بیکار بیٹھے رہنے والوں میں سے ہے یا ہر وقت لیٹے الْعِفَّةِ وَلكِنْ كَانَ مِنَ الْكُسَالَى وَالْوَانِينَ رہنے اور سوئے رہنے والے غافل شخص کی طرح ہے اور الْقَاعِدِينَ وَ كَالضُّجَعَةِ النُّومَةِ لا من وه خادم جو کوشش ، جدو جہد اور ہمت کرنے والوں میں أَهْلِ الشَّعْرِ وَالْجَهْدِ وَ الْجِلِ وَالْقُوَّةِ فَلا سے نہ ہو تو بلا شبہ وہ اپنے مالک پر ایک بوجھ ہی ہوگا۔اور شَكَ أَنَّهُ كَلٌّ عَلى مَوْلَاهُ وَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ اپنے آقا کی ہدایت کی پیروی نہیں کر سکے گا۔اور اس کے