تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 217 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 217

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۷ سورة الفاتحة وو اعْلَمُ أَنَّ قَوْلَهُ تَعَالَى إِيَّاكَ نَعْبُدُ و واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ کا کلام إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ 66 إِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ السَّعَادَةَ نَسْتَعِينُ اِس بات پر دلالت کرتا ہے کہ تمام کی تمام كُلِّهَا فِي اقْتِدَاءِ صِفَاتِ رَبِّ الْعَالَمِينَ - سعادت خدائے رب العالمین کی صفات کی پیروی کرنے وَحَقِيقَةُ الْعِبَادَةِ الْإِنْصِبَاغُ بِصِبْغ میں ہے اور عبادت کی حقیقت معبود کے رنگ میں رنگین الْمَعْبُودِ وَهُوَ عِندَ أَهْلِ الْحَقِي كَمَالُ ہونا ہے۔اور راستبازوں کے نزدیک کمال سعادت یہی السّعُودِ فَإِنَّ الْعَبْدَ لَا يَكُونُ عَبْدًا في ہے۔چنانچہ خدا شناس بزرگوں کے نزدیک بندہ در حقیقت الْحَقِيقَةِ عِنْدَ ذَوِى الْعِرْفَانِ إِلَّا بَعْدَ أَنْ اسی وقت عبد کہلا سکتا ہے جب اس کی صفات خدائے تَصِيرَ صِفَاتُه أظلال صِفاتِ الرَّحْمن رحمان کی صفات کا پرتو بن جائیں۔پس عبودیت کی فَمِنْ أَمَارَاتِ الْعُبُودِيَّةِ أَنْ تَتَوَلَّد نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ انسان میں بھی فِيْهِ رُبُوَبِيَّةٌ كَرُبُوبِيَّةِ حَضْرَةِ الْعِزَّةِ حضرت العزت کے رنگ کی ربوبیت پیدا ہو جائے اور وَكَذَلِكَ الرَّحْمَانِيَةُ وَالرَّحِيمِيَّةُ وَصِفَةُ اس طرح بطور ظليت اس میں رحمانیت، رحیمیت اور الْمَجَازاتِ أَظلالاً لِصِفَاتِ الحضرة مالکیت یوم الدین کی صفات حضرت احدیت پیدا ہو الْأَحَدِيَّةِ۔وَهَذَا هُوَ القِرَاطُ الْمُسْتَقِيْمُ جائیں۔یہی وہ صراط مستقیم ہے جس کے متعلق ہمیں حکم دیا الَّذِي أُمِرُنَا يتطلبة والشرعَةُ الَّتى گیا ہے کہ ہم اسے طلب کریں اور یہی وہ راستہ ہے جس أُوصِيْنَا لِنَرْقُبَهَا مِنْ كَرِيمٍ ذِی الْفَضْلِ کے متعلق ہمیں تاکید کی گئی ہے کہ کھلے کھلے فضل والے خدا سے اس (کے ملنے ) کی امید رکھیں۔الْمُبِينِ ثُمَّ لَمَّا كَانَ الْمَانِعَ مِنْ تَحْصِيلِ تِلْكَ پھر چونکہ ان درجات کے حصول میں بڑی روک الرجاتِ الرِّيَاءُ الَّذِي يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ ریا کاری ہے جو نیکیوں کو کھا جاتی ہے اور تکبر ہے جو بدترین وَالْكِبْرُ الَّذِى هُوَ رَأْسُ السَّيِّئَاتِ بدی ہے اور گمراہی ہے جو سعادت کی راہوں سے دور لے وَالضَّلَالُ الَّذِي يُبْعِدُ عَنْ طُرُقِ جاتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے (اپنے ) کمزور بندوں پر السَّعَادَاتِ أَشَارَ إلى دَوَاءِ هَذِهِ الْعِلَلِ رحم فرماتے ہوئے جو خطا کاریوں پر آمادہ ہو سکتا ہے اور الْمُهْلِكَاتِ رَحْمَةً مِّنْهُ عَلَى الضُّعَفَاءِ اپنی راہ میں قدم مارنے والوں پر ترس کھا کر ان مہلک الْمُسْتَعِدِينَ لِلْخَطِيَّاتِ وَتَرحما علی بیماریوں کی دواء کی طرف اشارہ فرمایا پس اُس نے حکم