تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 216

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۶ سورة الفاتحة کو دور کرے۔نور کے سامنے ظلمت نہیں ٹھہر سکتی۔لیکن اگر یہ سوال ہو کہ کس وقت انسان کو کہا جائے گا کہ مبدء انوار کے سامنے کھڑا ہو گیا اس کا جواب یہ ہے کہ صرف اس وقت کہا جاوے گا کہ جب اپنی زندگی کے ا تمام پہلوؤں میں حق کی طرف آجاوے اور سچائی سے پیار کرنے لگے۔اور گناہ اس کو پیارا معلوم نہ ہو بلکہ نہایت کراہت کی نظر سے اس کو دیکھے اور اس دشمن سے مخلصی پانے کے لئے خدا سے مدد چاہے۔تب خدائے رحمن و رحیم اس کی مدد کرتا ہے اور اپنی طرف سے نور نازل کر کے اس کو اس ظلمت سے نجات بخشتا ہے اور یہ دُعا اسی لئے تعلیم کی گئی۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔یعنی ہم اس بلا میں تجھ سے اعانت چاہتے ہیں ہمیں اس راہ پر کھڑا کر جہاں تیرے انعام کی کرنیں اُترتی ہیں۔الحکم جلد ۸ نمبر ۱۶ مؤرخہ ۷ ارمئی ۱۹۰۴ صفحه ۶) استعانت کے متعلق یہ بات یاد رکھنا چاہئے۔کہ اصل استمداد کا حق اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے اور اسی پر قرآن کریم نے زور دیا ہے۔چنانچہ فرمایا کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پہلے صفات الہی رہ۔رحمان۔دو رحیم۔مالک یوم الدین کا اظہار فرمایا۔پھر سکھایا اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ که یعنی عبادت بھی تیری کرتے ہیں اور استمداد بھی تجھ ہی سے چاہتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ اصل حق استمداد کا اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے۔کسی انسان حیوان - چرند پرند غرضیکہ کسی مخلوق کے لئے نہ آسمان پر نہ زمین پر یہ حق نہیں ہے۔مگر ہاں دوسرے درجہ پر خلقی طور سے یہ حق اہل اللہ اور مردان خدا کو دیا گیا ہے۔احکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مؤرخہ ۲۴ / جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۵) اللہ تعالیٰ کے گناہ سے بچنے کے لئے یہ آیت ہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ جو لوگ اپنے ربّ کے آگے انکسار سے دُعا کرتے رہتے ہیں کہ شاید کوئی عاجزی منظور ہو جاوے تو ان کا اللہ تعالیٰ خود مددگار ہو جاتا ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۲۸ مؤرخہ ۳۱ جولائی ۱۹۰۳ صفحہ ۲۱۷) جسے دعا کی توفیق دی جاوے گی۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی اس پر اپنا فضل کرے گا اور وہ بیچ جاوے گا۔ظاہری تدا بیر صفائی وغیرہ کی منع نہیں ہیں۔بلکہ بر تو کل زانوئے اشتر بہ ہند۔پر عمل کرنا چاہیے جیسا کر ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سے معلوم ہوتا ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۲ء صفحه ۶)