تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 212
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۲ سورة الفاتحة w سوَاكَ فَلا نَعْبُدُ شَيْئًا إِلَّا تیری ذات کے سوا اور کسی چیز کی عبادت نہیں کرتے اور ہم تجھے واحد وَجْهَكَ وَإِنَّا مِنَ الْمُوَحِدِينَ وَ اور یگانہ ماننے والوں میں سے ہیں۔اس آیت میں خدائے عزّ وجلّ اخْتَارَ عَزَّ وَ جَلَّ لَفَظَ الْمُتَعلّم نے متکلم مع الغیر کا صیغہ اس امر کی طرف اشارہ کرنے کے لئے مَعَ الْغَيْرِ إِشَارَةٌ إلى أَنَّ الدُّعَاء اختیار فرمایا ہے کہ یہ دُعا تمام بھائیوں کے لئے ہے نہ صرف دُعا لجميع الإخْوَانِ لَا لِنَفْس الداعی کرنے والے کی اپنی ذات کے لئے اور اس میں (اللہ نے) وَ حَثَّ فِيهِ عَلى مُسَالَمَةِ مسلمانوں کو باہمی مصالحت، اتحاد اور دوستی کی ترغیب دی ہے اور یہ الْمُسْلِمِينَ وَاتِحَادِهِمْ وَوَدَادِهِمْ کہ دُعا کرنے والا اپنے آپ کو اپنے بھائی کی خیر خواہی کے لئے اسی وَ عَلَى أَنْ يَعْنُوَ الدَّاعِى نَفْسَهُ طرح مشقت میں ڈالے جیسا کہ وہ اپنی ذات کی خیر خواہی کے لئے لِنُصْحِ أَخِيهِ كَمَا يَعْنُو لِنُصْحِ اپنے آپ کو مشقت میں ڈالتا ہے۔اور اس کی (یعنی اپنے بھائی کی ) ذَاتِهِ وَيَهْتَمُّ وَ يَخْلَقُ لِحَاجَاتِه ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ایسا ہی اہتمام کرے اور بے چین كَمَا يَنتَم وَيَقْلَقُ لِنَفْسِهِ وَلَا ہو جیسے اپنے لئے بے چین اور مضطرب ہوتا ہے۔اور وہ اپنے اور يُفَرِّقُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ وَيَكُونُ اپنے بھائی کے درمیان کوئی فرق نہ کرے۔اور پورے دل سے اس له بِكُلِ الْقَلْبِ مِنَ النَّائین کا خیر خواہ بن جائے گو یا اللہ تعالی تاکیدی حکم دیتا ہے اور فرماتا ہے فَكَأَنَّهُ تَعَالَى يُوْمِي وَ يَقُولُ یا اے میرے بندو! بھائیوں اور محبتوں کے (ایک دوسرے کو ) تحائف عِبَادِ تَهادُوا بِالدُّعَاءِ تہادی دینے کی طرح دُعا کا تحفہ دیا کرو اور انہیں شامل کرنے کے لئے ) اپنی الْإِخْوَانِ وَالْمُحِبْينَ۔وَ تَنَاتَّقُوا دُعاؤں کا دائرہ وسیع کرو اور اپنی نیتوں میں وسعت پیدا کرو۔اپنے دَعَوَاتِكُمْ وَتَبَاقَعُوا بِيَّاتِكُمْ نیک ارادوں میں اپنے بھائیوں کے لئے بھی گنجائش پیدا کرو اور وَكُونُوا فِي الْمَحَبَّةِ كَالْإِخْوَانِ باہم محبت کرنے میں بھائیوں ، باپوں اور بیٹیوں کی طرح بن جاؤ۔وَالأباء والبنين۔كرامات الصَّادِقِين ، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۱۱۹ تا۱۲۲) ( ترجمه از مرتب) اللہ جل شانہ نے آیہ کریمہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ کو مقدم رکھا تا اس بات کی طرف اشارہ کرے کہ جو کچھ عملی اور علمی طور پر ہم کو پہلے تو فیق دی گئی ہے چاہئے کہ ہم اس کو بجالا و میں اور پھر جو ہمارے علم اور طاقت سے باہر ہو اس میں خدا تعالیٰ سے امداد چاہیں۔(البدر جلد ۲ نمبر ۳۶ مورخه ۲۵ ستمبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۸۲)