تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 210

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۰ سورة الفاتحة عَظْمَةِ شَرِ النَّفْسِ الْأَمَّارَةِ التي تسعى | نیکیوں کی طرف راغب ہونے سے یوں بھاگتا ہے۔جیسے كَالْعَشَارَةِ فَكَأْتَها أَفعى شَرهَا قَدْ طَم ان سدھی اونی سوار کو اپنے اوپر بیٹھنے نہیں دیتی۔اور بھاگتی ہے۔فَجَعَلَ كُلَّ سَلِيمٍ كَعَظم إِذَا رَقَ و یا وہ ایک اثر دہا کی طرح ہے جس کا نتز بہت بڑھ گیا ہے اور تَرَاهَا تَنفُفُ السَّمَّ أَوْ هِيَ ضِر غام تما اس نے ہر ڈسے ہوئے کو بوسیدہ ہڈی کی طرح بنا دیا ہے اور تو يَنكُلُ إِنْ هَم وَلَا حَوْلَ وَلا قُوَّةً وَلا دیکھ رہا ہے کہ وہ زہر پھونک رہا ہے یا وہ شیر ( کی طرح) ہے كَسْبَ وَلَا لَقَ إِلَّا بِاللهِ الَّذِي هُوَ يَرجُم کہ اگر حملہ کرے تو پیچھے نہیں ہٹتا۔کوئی طاقت ، قوت، کمائی، اندوختہ ( کار آمد نہیں سوائے اس خدا تعالی کی مدد کے جو الشَّيَاطِينَ وَهِيَ شیطانوں کو ہلاک کرتا ہے۔وَ فِي تَقْدِيمِ تَعْبُدُ عَلى نَسْتَعِينُ اور نَعْبُدُ کو نَسْتَعِین سے پہلے رکھنے میں اور بھی کئی نکات نِكَاتُ أُخْرَى فَتَكْتُبْ لِلَّذِينَ هُمْ ہیں جنہیں ہم ان لوگوں کے لئے یہاں لکھتے ہیں جو سارنگیوں مَشْغُوفُونَ بِآيَاتِ الْمَعَانِي لا برات کی رُوں رُوں پر نہیں بلکہ قرآنی آیات مثانی (سورۃ فاتحہ ) الْمَقَالِي وَيَسْعَوْنَ إِلَيْهَا شَائِقِيْنَ وَھی سے شغف رکھتے ہیں۔اور مشتاقوں کی طرح ان کی طرف لپکتے أَنَّ اللهَ عَزَّوَجَلَّ يُعَلِّمُ عِبَادَهُ دُعَاء ہیں اور وہ ( نکات یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک فِيْهِ سَعَادَهُهُمْ فَيَقُولُ يَا عِبَادِ سَلُونی ایسی دعا سکھاتا ہے جس میں ان کی خوش بختی ہے اور کہتا ہے بِالْإِنْكِسَارِ وَالْعُبُودِيَّةِ وَقُولُوا رَبَّنَا اے میرے بندو! مجھ سے عاجزی اور عبودیت کے ساتھ إيَّاكَ نَعْبُدُ وَلكِن بِالْمُعَانَاةِ وَالتَّكلف سوال کرو اور کہو اے ہمارے رب! ايَّاكَ نَعْبُدُ ( ہم تیری وَ التَّحَثُمِ وَتَفْرِقَةِ الْخَاطِرِ وَ ہی عبادت کرتے ہیں لیکن بڑی ریاضت، تکلیف، تمويهَاتِ الْخَنَّاسِ وَبِالرَّوِيَّةِ النَّاضِبَةِ شرمساری، پریشان خیالی اور شیطانی وسوسہ اندازی اور وَالْأَوْهَامِ النَّاصِبَةِ وَ الخيالات خشک افکار اور تباہ کن اوہام اور تاریک خیالات کے ساتھ ہم الْمُظْلِمَةِ كَمَاءٍ مُكَتَرٍ مِنْ سَيْلٍ أَوْ سیلاب کے گدلے پانی کی مانند ہیں یا رات کو لکڑیاں اکٹھا كَعَاطِب لَيْلٍ وَإِن نَتَّبِعُ إِلَّا ظنا و ما کرنے والے کی طرح ہیں اور ہم صرف گمان کی پیروی کر رہے نَحْنُ مُسْتَيْقِنِينَ ہیں۔ہمیں یقین حاصل نہیں۔وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ يَعْنِي نَسْتَعِيْنُكَ (اور پھر ) وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہو۔یعنی ہم تجھ سے ہی مدد