تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 207
سورة الفاتحة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اب ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کیا شرک ہوگا کہ اپنی عقل کی طاقت کو ربانی طاقت کے مساوی بلکہ اس سے عمدہ تر خیال کر رہے ہیں۔سود یکھئے وہی بات بیچ نکلی یا نہیں کہ وہ بجائے خدا کے عقل سے إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پکار رہے ہیں عیسائیوں کا حال بیان کرنا کچھ ضرورت ہی نہیں۔سب لوگ جانتے ہیں کہ حضرات عیسائی بجائے اس کے کہ خداوند تعالیٰ کی خالص طور پر پرستش کریں مسیح کی پرستش میں مشغول ہیں اور بجائے اس کے کہ اپنے کاروبار میں خدا سے مدد چاہیں مسیح سے مدد مانگتے رہتے ہیں اور ان کی زبانوں پر ہر وقت رَبُّنَا الْمَسِيحَ : رَبَّنَا الْمَسِیح: جاری ہے۔سو وہ لوگ مضمون ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پر عمل کرنے سے محروم اور راندہ درگاہ الہی ہیں۔(براہین احمد یہ چہار ص۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۵ تا۵۳۲ حاشیہ نمبر ۱) إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں فاصلہ نہیں ہے۔البتہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں تقدم زمانی ہے کیونکہ جس حال میں اپنی رحمانیت سے بغیر ہماری دُعا اور درخواست کے ہمیں انسان بنایا اور انواع و اقسام کی قوتیں اور نعمتیں عطا فرمائیں۔اُس وقت ہماری دُعانہ تھی۔اس وقت خدا کا فضل تھا۔اور یہی تقدم ہے۔ވ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ صفحہ ۱۴۹،۱۴۸۔نیز دیکھیں الحکم جلد ۵ نمبر ۳۲ مورخه ۳۱ اگست ۱۹۰۱ صفحه ۲) إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔اور تجھ سے ہی امداد چاہتے ہیں۔ايَّاك نَسْتَعِينُ پر اِيَّاكَ نَعْبُدُ کو تقدم اس لئے ہے کہ انسان دُعا کے وقت تمام قوی سے کام لے کر خدائے تعالیٰ کی طرف آتا ہے۔یہ ایک بے ادبی اور گستاخی ہے کہ قومی سے کام نہ لے کر اور قانونِ قدرت کے قواعد سے کام نہ لے کر آوے مثلاً کسان اگر تخم ریزی کرنے سے پہلے ہی یہ دُعا کرے کہ الہی اس کھیت کو ہرا بھرا کر! اور پھل پھول لا۔تو یہ شوخی اور ٹھٹھا ہے۔اسی کو خدا کا امتحان اور آزمائش کہتے ہیں جس سے منع کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ خدا کومت آزماؤ۔جیسا کہ مسیح علیہ السلام کے مائندہ مانگنے کے قصہ میں اس امر کو بوضاحت بیان کیا ہے۔اس پر غور کرو اور سوچو ! یہ سچی بات ہے کہ جو شخص اعمال سے کام نہیں لیتا وہ دُعا نہیں کرتا بلکہ خدائے تعالیٰ کی آزمائش کرتا ہے۔اس لئے دُعا کرنے سے پہلے اپنی تمام طاقتوں کو خرچ کرنا ضروری ہے۔اور یہی معنی اس دُعا کے ہیں۔پہلے لازم ہے کہ انسان اپنے اعتقاد، اعمال میں نظر کرے۔کیونکہ خدائے تعالیٰ کی عادت ہے کہ اصلاح اسباب کے پیرایہ میں ہوتی ہے۔وہ کوئی نہ کوئی ایسا سبب پیدا کر دیتا ہے کہ جو اصلاح کا موجب ہو جاتا ہے وہ لوگ اس مقام پر ذرا خاص غور کریں جو کہتے ہیں کہ جب دُعا ہوئی تو اسباب کی کیا ضرورت ہے۔وہ نادان سوچیں کہ دُعا بجائے خود ایک مخفی سبب ہے جو دوسرے اسباب کو پیدا کر دیتا ہے اور ایاک نعبد کا تقدم اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پر جو کلمہ دعائیہ ہے۔اس امر کی خاص تشریح کر رہا ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۴۵)