تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 206 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 206

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۶ سورة الفاتحة جیسا کہ وہ خدا کے لئے ان چار صفتوں کو پسند کرتا ہے ایسا ہی اپنے نفس کے لئے بھی یہی پسند کرے لہذا خدا نے سورۃ فاتحہ میں یہی تعلیم کی تھی جس کو اس زمانہ کے مسلمان ترک کر بیٹھے ہیں۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۱۹،۵۱۸) ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔چھٹی صداقت جو سورۃ فاتحہ میں مندرج ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ اے صاحب صفات کا ملہ اور مبدء فیوض اربعہ ہم تیری ہی پرستش کرتے ہیں اور پرستش وغیرہ ضرورتوں اور حاجتوں میں مدد بھی تجھ سے ہی چاہتے ہیں یعنی خالصاً معبود ہمارا تو ہی ہے اور تیرے تک پہنچنے کے لئے کوئی اور دیوتا ہم اپنا ذریعہ قرار نہیں دیتے نہ کسی انسان کو ، نہ کسی بہت کو ، نہ اپنی عقل اور علم کو کچھ حقیقت سمجھتے ہیں اور اپناذ نہ کو، نہ اورعلا ہر بات میں تیری ذات قادر مطلق سے مدد چاہتے ہیں۔یہ صداقت بھی ہمارے مخالفین کی نظر سے چھپی ہوئی ہے چنانچہ ظاہر ہے کہ بت پرست لوگ بجز ذات واحد خدائے تعالیٰ کے اور اور چیزوں کی پرستش کرتے ہیں اور آریہ سماج والے اپنی روحانی طاقتوں کو غیر مخلوق سمجھ کر ان کے زور سے مکتی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔برہمو سماج والے الہام کی روشنی سے مونہہ پھیر کر اپنی عقل کو ایک دیوی قرار دے بیٹھے ہیں جو کہ ان کے زعم باطل میں خدا تک پہنچانے میں اختیار کلی رکھتی ہے اور سب الہی اسرار پر محیط اور متصرف ہے سو وہ لوگ بجائے خدا کی پرستش اور استمداد کے اس سے ااِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا خطاب کر رہے ہیں اور شرک خفی میں گرفتار اور مبتلا ہیں اور جب منع کیا جائے تو کہتے ہیں عقل عطیات الہیہ سے ہے اور اسی غرض سے دی گئی ہے کہ تا انسان اپنی معاش اور مہمات میں اس کو استعمال میں لاوے۔پس عطیہ الہیہ کا استعمال میں لانا شرک نہیں بن سکتا سو واضح ہو کہ یہ ان کی غلطی ہے اور بار ہا یہ امر معرض بیان میں آلیا ہے کہ جس یقین کامل اور جن معارف حقہ پر ہماری نجات موقوف ہے ان مقاصد عالیہ کے حصول کے لئے عقل ذریعہ نہیں بن سکتی۔ہاں ان معارف کے حاصل کرنے کے بعد ان کی صداقت اور سچائی کوسمجھ سکتی ہے لیکن وہ انکشاف صحیح اور کامل فقط اس پاک اور صاف روشنی سے ہوتا ہے کہ جو خدائے تعالیٰ کی ذات میں موجود ہے اور عقل کی دود آمیز اور ناقص روشنی جو انسان میں موجود ہے اس جگہ عاجز ہے۔سوشرک اس طرح لازم آتا ہے کہ برہمو سماج والے خدا کے اس روشن کلام سے کہ جو انکشاف صحیح اور کامل کا مدار ہے مونہ پھیر کر اور اس سے بکلی بے نیازی ظاہر کر کے اپنی ہی عقل ناقص کو رہبر مطلق ٹھہراتے ہیں اور بنائے کار بناتے ہیں۔سو ان کا دل بیمار اس دھوکہ میں پڑا ہوا ہے کہ جس منزل عالی تک الہی قوتیں اور ربانی تجلیات پہنچا سکتے ہیں اس منزل تک ان کی اپنی ہی عقل پہنچا دے گی۔