تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 203 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 203

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٢٠٣ سورة الفاتحة کے ہاتھ میں ہے ہر ایک رحمت اُس کے ہاتھ میں ہے مگر انجیل یہ دعا سکھلاتی ہے کہ ابھی خدا کی بادشاہت تم میں نہیں آئی اُس کے آنے کے لئے خدا سے دعا مانگا کرو تا وہ آجائے یعنی ابھی تک ان کا خداز مین کا مالک اور بادشاہ نہیں اس لئے ایسے خدا سے کیا امید ہو سکتی ہے۔کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۸ تا ۴۰) ہمارے خدائے عزوجل نے سورۃ فاتحہ میں نہ آسمان کا نام لیا نہ زمین کا نام اور یہ کہہ کر حقیقت سے ہمیں خبر دے دی کہ وہ رب العالمین ہے یعنی جہاں تک آبادیاں ہیں اور جہاں تک کسی قسم کی مخلوق کا وجود موجود ہے خواہ اجسام خواہ ارواح اُن سب کا پیدا کرنے والا اور پرورش کرنے والا خدا ہے جو ہر وقت ان کی پرورش کرتا ہے اور ان کے مناسب حال ان کا انتظام کر رہا ہے۔اور تمام عالموں پر ہر وقت ہر دم اس کا سلسلہ ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت اور جزا سزا کا جاری ہے۔کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۲،۴۱) سورۃ فاتحہ کی دعا ہمیں سکھلاتی ہے کہ خدا کو زمین پر ہر وقت وہی اقتدار حاصل ہے جیسا کہ اور عالموں پر اقتدار حاصل ہے اور سورۃ فاتحہ کے سر پر خدا کے اُن کامل اقتداری صفات کا ذکر ہے جو دنیا میں کسی دوسری کتاب نے ایسی صفائی سے ذکر نہیں کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ رحمان ہے وہ رحیم ہے وہ مَالِكِ يَوْمِ الدّین ہے پھر اس سے دعا مانگنے کی تعلیم کی ہے اور دعا جو مانگی گئی ہے وہ مسیح کی تعلیم کردہ دعا کی طرح صرف ہر روزہ روٹی کی درخواست نہیں بلکہ جو جو انسانی فطرت کو ازل سے استعداد بخشی گئی ہے اور اس کو پیاس لگا دی گئی ہے وہ دعا سکھلائی گئی ہے اور وہ یہ ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ( فاتحہ : ۷،۶) یعنی اے ان کامل صفتوں کے مالک اور ایسے فیاض کہ ذرہ ذرہ تجھ سے پرورش پاتا ہے اور تیری رحمانیت اور رحیمیت اور قدرت جزا سزا سے تمتع اٹھاتا ہے تو ہمیں گزشتہ راست بازوں کا وارث بنا اور ہر ایک نعمت جو ان کو دی ہے ہمیں بھی دے اور ہمیں بچا کہ ہم نافرمان ہوکر مورد غضب نہ ہو جا ئیں اور ہمیں بچا کہ ہم تیری مدد سے بے نصیب رہ کر گمراہ نہ ہو جاویں۔آمین 99171 (کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۳، ۴۴) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ اس میں اللہ تعالی کی چار صفات جو اُم الصفات ہیں بیان فرمایا ہے۔رب العالمین ظاہر کرتا ہے کہ وہ ذرہ ذرہ کی ربوبیت کر رہا ہے۔عالم اسے کہتے ہیں جس کی خبر مل سکے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز دنیا میں ایسی نہیں ہے جس کی ربوبیت نہ کرتا ہو۔ارواح، اجسام وغیرہ سب کی ربوبیت کر رہا ہے وہی ہے جو ہر ایک چیز کے حسبِ حال اس کی پرورش کرتا ہے جہاں جسم کی پرورش فرماتا ہے وہاں روح کی سیری اور تسلی کے لئے معارف اور حقائق