تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 200
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۰ سورة الفاتحة اور اپنی تبدیلی کرنے پر قادر ہے فیصلہ ناطقہ نہیں ہے۔لہذا اس کے برخلاف کرنا کذب یا عہد شکنی میں داخل نہیں۔اور گو بظاہر کوئی وعید شروط سے خالی ہو مگر اس کے ساتھ پوشیدہ طور پر ارادہ الہی میں شروط ہوتی ہیں بجز ایسے الہام کے جس میں ظاہر کیا جائے کہ اس کے ساتھ شرور نہیں ہیں۔پس ایسی صورت میں موقطعی فیصلہ ہو جاتا ہے اور تقدیر مبرم قرار پا جاتا۔ہے یہ نکتہ معارف الہیہ سے نہایت قابل قدر اور جلیل الشان نکتہ ہے جو سورہ فاتحہ میں مخفی رکھا گیا ہے۔فتد ہو۔انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحه ۸ تا ه ا حاشیه ) الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ غرض یہ پاک تعلیم جو اسلام کی ریگا نہ خصوصیت اور مایہ ناز تعلیم ہے ورے ٹھہرتی ہی نہیں جب تک نمازی کو سچا اور یک رنگ مومن نہ بناوے۔اس دارالکدورت میں ہر شخص کو راحت اور طمانیت کی تلاش ہے کسی نے اس تلاش میں کسی چیز سے پنجہ مارا ہے کسی نے کسی شے سے۔بڑے بڑے فلاسفروں نے اس پر خامہ فرسائی کی ہے اور وہ باتیں زور طبع سے بتائی ہیں جن پر عمل کرنے سے خوشحالی ہو سکتی ہے مگر عبث اور بے سود۔بہتیرے ان راندہ لوگوں میں ایسے ہوئے ہیں جو بڑی تلخ کامی کے ساتھ اس دنیا سے اُٹھے۔بعضوں نے خود کشی کا کڑوا پیالہ پیا اور بہتوں کی زندگی کے مختلف لمحے اضطراب اور جزع فزع سے معمور نظر آتے ہیں۔حقیقت میں ایک ہی چیز ہے اور صرف ایک ہی چیز ہے جو زندگی کے کجدار و مریز میں پوری استقامت اور سکینت اور طمانیت بخش سکتی ہے وہ ہے خدا تعالیٰ اور اُس کی صفات پر کامل اور لذیذ ایمان۔اور اسی ایمان عرفان آمیز کا عملی اظہار ہے۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ الحکم جلد ۴ نمبر ۳۴ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۰ صفحه ۲) آسمانی پیدائش کا پہلا دن وہ ہوتا ہے جب شیطانی زندگی پر موت وارد ہوتی ہے اور روحانی زندگی کا تولد ہوتا ہے جیسے بچہ کا تولد ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفاتحہ میں اسی تولد کی طرف ایما فرمایا ہے۔اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ یہ چاروں صفات اللہ تعالیٰ کی بیان کی گئی ہیں یعنی وہ خدا اللہ جس میں تمام محامد پائے جاتے ہیں کوئی خوبی سوچ اور خیال میں نہیں آ سکتی جو اللہ تعالی میں نہ پائی جاتی ہو بلکہ انسان کبھی بھی اُن محامد اور خوبیوں کو جو اللہ کریم میں پائی جاتی ہیں کبھی بھی شمار نہیں کر سکتا۔جو خدا اسلام نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے وہی کامل اور سچا خدا ہے اور اسی لئے قرآن کو اَلْحَمْدُ لِلہ سے شروع فرمایا ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ا مؤرخه ۱۰/جنوری ۱۹۰۱ صفحه ۴) میرے دل میں یہ بات آئی ہے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ سے