تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 197
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۷ سورة الفاتحة اگر خدا تعالیٰ کی ان نعمتوں کا شمار کرنا چاہیں تو ہر گز ممکن نہیں کہ اس خدا کی مہر بانیوں اور احسانوں کا شمار کر سکیں۔اس کے انعامات ہر دو روحانی اور جسمانی رنگ میں محیط ہیں اور جیسا کہ وہ سورہ فاتحہ میں جو کہ سب سے پہلی سورہ ہے اور تمام قرآن شریف اسی کی شرح اور تفسیر ہے اور وہ پنچ وقت نمازوں میں بار بار پڑھی جاتی ہے اس کا نام ہے رب العالمین یعنی ہر حالت میں اور ہر جگہ پر اسی کی ربوبیت سے انسان زندگی اور ترقی پاتا ہے اور اگر نظر عمیق سے دیکھا جاوے تو حقیقت میں انسانی زندگی کا بقا اور آسودگی اور آرام راحت و چین اسی صفت الہی سے وابستہ ہے اگر اللہ تعالیٰ اپنی صفت رحمانیت کا استعمال نہ کرے اور دنیا سے اپنی رحمانیت کا سایہ اُٹھالے تو دنیا تباہ ہو جاوے۔اللہ کی ایک صفت ربّ ہے یعنی پرورش کرنے والا اور تربیت کرنے والا کیا روحانی اور کیا جسمانی دونوں قسم کے قومی اللہ تعالیٰ نے ہی انسان میں رکھے ہیں۔اگر قومی ہی نہ رکھے ہوتے۔تو انسان ترقی ہی کیسے کر سکتا۔جسمانی ترقیات کے واسطے بھی اللہ تعالیٰ ہی کے فضل و کرم اور انعام کے گیت گانے چاہئیں کہ اس نے قومی رکھے اور پھر ان میں ترقی کرنے کی طاقت بھی فطر تا رکھ دی۔مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔خدا مالک ہے جزا سزا کے دن کا۔ایک رنگ میں اسی دنیا میں بھی جزا سزا ملتی ہے۔ہم روز مرہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ چور چوری کرتا ہے ایک روز نہ پکڑا جاوے گا دو روز نہ پکڑا جائے گا آخر ایک دن پکڑا جائے گا اور زندان میں جائے گا اور اپنے کئے کی سزا بھگتے گا۔یہی حال زانی ، شراب خور اور طرح طرح کے فسق و فجور میں بے قید زندگی بسر کرنے والوں کا ہے کہ ایک خاص وقت تک خدا کی شان ستاری ان کی پردہ پوشی کرتی ہے۔آخر وہ طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور دکھوں میں مبتلا ہو کر ان کی زندگی تلخ ہو جاتی ہے۔اور یہ اس اُخروی دوزخ کی سزا کا نمونہ ہے۔اس طرح سے جو لوگ سرگرمی سے نیکی کرتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی اور فرمانبرداری ان کی زندگی کا اعلیٰ فرض ہوتا ہے۔تو خدا ان کی نیکی کو بھی ضائع نہیں کرتا۔اور مقررہ وقت پر ان کی نیکی بھی پھل لاتی اور باردار ہو کر دنیا میں ہی ان کے واسطے ایک نمونہ کے طور پر مثالی جنت حاصل کر دیتی ہے۔غرض جتنے بھی بدیوں کا ارتکاب کرنے والے فاسق فاجر شراب خور اور زانی ہیں ان کو خدا کا اور روزہ جزا کا خیال آنا تو در کنار اس دنیا میں ہی اپنی صحت، تندرستی، عافیت اور اعلیٰ قومی کھو بیٹھتے ہیں اور پھر بڑی حسرت اور مایوسی سے ان کو زندگی کے دن پورے کرنے پڑتے ہیں۔سل، دق ، سکتہ اور رعشہ اور اور خطرناک امراض ان کے شامل حال ہو کر مرنے سے پہلے ہی مر رہتے اور آخر کار بے وقت اور قبل از وقت موت کا لقمہ بن جاتے ہیں۔الحکم نمبر ۴۱ جلد ۱۲ مؤرخہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۰۸ صفحه ۲) سورۃ فاتحہ میں پہلے اَلحَمدُ لِلهِ کہا گیا ہے پھر بتایا ہے کہ رَبِّ الْعَلَمِینَ ہے الرحمن ہے یعنی بغیر اعمال