تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 188

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کرے گا؟ ۱۸۸ سورة الفاتحة اسلام میں خدا کی ایسی صفات مانی گئی ہیں کہ اگر تمام دنیا مل کر نقص نکالے تو نقص نکال نہ سکے۔ہم کہتے ہیں کہ جیسا یہ لوگ سمجھتے ہیں جب اس میں کئی ایک نقص ہیں تو پھر وہ کیونکر سب کی نگہبانی کا ذمہ دار ہو سکتا ہے۔خدا میں تو صفات کا ملہ پائی جانی چاہئیں اگر یہ نہ ہوں تو پھر اس پر کیا امید ہو سکتی ہے کہ کوئی ایسے معبود سے دُعا کیا کرے۔ہمارا معبود تو صفات کا ملہ رکھتا ہے۔پس اس سے دُعا مانگو ہمیں وہ سیدھی راہ دکھا دے جو ان لوگوں کی راہ ہے جن پر تو نے فضل کیا۔الغرض اللہ تعالیٰ اپنی چار صفات بتلا کر تعلیم دیتا ہے کہ یوں دُعا مانگو۔ان لوگوں کی راہ دکھا جن پر تیرا انعام و اکرام ہے۔نہ کہ جن پر تیرا غضب ہے نہ ضالین کی۔یہ قصہ کے طور پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ایسا ہو گا۔پس فرمایا کہ جیسے پہلوں پر غضب ہوا اگر تم ایسا کرو گے تو تم پر بھی غضب ہوگا۔یعنی تم بھی اگر خدا کی راہ میں مستقیم نہیں رہو گے تو تم پر بھی غضب آئے گا۔( بدر نمبر جلدے مؤرخہ ۹ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه ۷،۶) - خدا تعالیٰ کے ان صفات رب۔رحمن رحیم۔مالک یوم الدین پر توجہ کی جاوے تو معلوم ہوتا ہے کہ کیسا عجیب خدا ہے پھر جن کا رب ایسا ہو کیا وہ کبھی نامراد اور محروم رہ سکتا ہے؟ رب کے لفظ سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ دوسرے عالم میں بھی ربوبیت کام کرتی رہے گی۔(البدر جلد ۳ نمبر ۴۴ ۴۵ مؤرخه ۲۴ نومبر تا یکم دسمبر ۱۹۰۴ صفحه ۳) قرآن شریف میں جس قدر صفات اور افعالِ الہیہ کا ذکر ہے ان سب صفات کا موصوف اسم اللہ ٹھہرایا گیا ہے مثلاً کہا گیا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۴۶) خدا تعالی کی چار صفتیں ہیں جن سے ربوبیت کی پوری شوکت نظر آتی ہے اور کامل طور پر چہرہ اس ذات ابدی از لی کا دکھائی دیتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے ان ہر چہار صفتوں کو سورہ فاتحہ میں بیان کر کے اپنی ذات کو معبود قرار دینے کے لئے ان لفظوں سے لوگوں کو اقرار کرنے کی ہدایت دی ہے کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَستَعینُ۔یعنی اے وہ خدا جوان چار صفتوں سے موصوف ہے ہم خاص تیری ہی پرستش کرتے ہیں کیونکہ تیری ربوبیت تمام عالموں پر محیط ہے اور تیری رحمانیت بھی تمام عالموں پر محیط ہے اور تیری رحیمیت بھی تمام عالموں پر محیط ہے اور تیری صفت مالکانہ جزا وسزا کی بھی تمام عالموں پر محیط ہے اور تیرے اس حسن اور احسان میں بھی کوئی شریک نہیں اس لئے ہم تیری عبادت میں بھی کوئی شریک نہیں کرتے۔اب واضح ہو کہ خدا تعالیٰ نے اس سورۃ میں ان چار صفتوں کو اپنی الوہیت کا مظہر اتم قرار دیا ہے اور اسی دو