تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 187 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 187

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۷ سورة الفاتحة دو یہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی کے کامل اور سب سے بڑھ کر ہونے کا ایک اور ثبوت ہے کہ آپ کے تربیت یافتہ گروہ میں وہ استقلال اور رسوخ تھا کہ وہ آپ کے لئے اپنی جان مال تک دینے سے دریغ نہ کرنے والے میدان میں ثابت ہوئے اور مسیح کے نقص کا یہ بدیہی ثبوت ہے کہ جو جماعت تیار کی وہی گرفتار کرانے اور جان سے مروانے اور لعنت کرنے والے ثابت ہوئے۔غرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحیمیت کا اثر تھا کہ صحابہ میں ثبات قدم اور استقلال تھا۔پھر ملک یوم الدین کا عملی ظہور صحابہ کی زندگی میں یہ ہوا کہ خدا نے ان میں اور ان کے غیروں میں فرقان رکھ دیا جو معرفت اور خدا کی محبت دنیا میں ان کو دی گئی یہ ان کی دنیا میں جز تھی۔اب قصہ کوتاہ کرتا ہوں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں ان صفات اربعہ کی تحلی چمکی۔لیکن بات بڑی غور طلب ہے کہ صحابہ کی جماعت اتنی ہی نہ سمجھو جو پہلے گذر چکے بلکہ ایک اور گروہ بھی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے وہ بھی صحابہ ہی میں داخل ہے جو احمد کے بروز کے ساتھ ہوں گے چنانچہ فرمایا ہے اخَرِينَ مِنْهُمُ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة: ۴) یعنی صحابہ کی جماعت کو اسی قدر نہ سمجھو بلکہ مسیح موعود کے زمانہ کی جماعت بھی صحابہ ہی ہوگی۔اس آیت کے متعلق مفسروں نے مان لیا ہے کہ یہ مسیح موعود کی جماعت ہے۔منہم کے لفظ سے پایا جاتا ہے کہ باطنی توجہ اور استفاضہ صحابہ ہی کی طرح ہوگا۔صحابہ کی تربیت ظاہری طور پر ہوئی تھی۔مگر ان کو کوئی دیکھ نہیں سکتا۔وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تربیت کے نیچے ہوں گے۔اس لئے سب علماء نے اس گروہ کا نام صحابہ ہی رکھا ہے۔جیسے ان صفات اربعہ کا ظہور اُن صحابہ میں ہوا تھا ویسے ہی ضروری ہے کہ اخَرِینَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کی مصداق جماعت صحابہ میں بھی ہو۔الحکم نمبر ۳ جلد ۵ مؤرخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۴) یہ چار صفتیں ہیں جو لفظی باتیں نہیں بلکہ اللہ نے تمام دنیا کا نظارہ دکھلایا ہے کہ دنیا میں کوئی خالقیت سے منکر ہے کوئی رحمانیت سے کوئی رحیمیت سے اور کوئی اس کے ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہونے سے اس قسم کا تفرقہ تمام مذاہب میں ہے مگر اسلام ہی ایسا پاک مذہب ہے جس نے سب صفات کا ملہ کو جمع کر دیا۔پس یہ سورۃ جو اھم الکتاب کہلاتی ہے یہ پانچ وقت اسی لئے پڑھی جاتی ہے کہ لوگ سوچیں کہ اسلام نہایت مبارک مذہب ہے اور اس کی یہ تعلیم ہے۔اسلام کا خدا نہ تو ایسا ہے کہ کسی کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے جیسا کہ حضرت عیسی کو خدا بنایا گیا ہے نہ ایسا کہ وہ پیدا نہیں کر سکتا اور مکتی اس واسطے نہیں دیتا کہ آگے پھر بنائے کیا ؟ کیونکہ چند محدود روحیں ہیں جو آپ سے چلی آتی ہیں۔انہیں کو بار بار دنیا میں لاتا ہے۔اگر سب کو نجات دے تو پھر آگے کیا